Sonntag, 7. April 2013

کیا ھمیں حق ھے ؟؟؟؟؟



ھم مسلمان ھیں کیا حقیقت میں مسلمان ھیں ؟؟
ھم یہ بحث کیوں کرتے ھیں کہ کون مسلمان ھے ھمیں یہ حق کس نے دیا کہ ھم دوسروں کے ایمانوں کا فیصلہ کر سکیں ؟؟
کیا ھمارے اعمال اس قابل ھیں کہ ھم فخر سے کہہ سکیں کہ ھم اللہ کے سب حکم مانتے ھیں کیا ھم قرآن کو سمجھ چکے ھیں کیا ھمارا اسلام صرف نمازوں تک محدود نہیں ؟
گھر بیٹھ کر فتوے دیا بہت اسان ھے مگر یورپ میں آکر یہاں کے قانون کی پابندی دیکھتے ھیں تو کہتے ھیں ھاں اسلام میں صفائ کی بہت اھمیت ھے صفائ نصف ایمان ھے پھر اسلامی ممالک میں وہ نصف ایمان نظر کیوں نہیں آتا ؟؟
یتیموں کی کفالت کرنے والا قیامت کے رسولِ کریم کے ساتھ ھوگا اگر ھمیں رسولِ کریم سے محبت ھے تو یتیم کیوں بھٹک رھے ھیں
دوسروں کے سامنے ھاتھ پھیلانا ھمارے نبی کا نا پسندیدہ عمل ھے سڑکوں سے لے کر پارلیمنٹ تک مدد کے لیے کیوں ھاتھ پھیلاتے ھیں ؟؟
ھم مسلمان ھیں مگر یہ بات بھول جاتے ھیں اسلام گھر سے شروع ھوتا ھے گھر کی چار دیواری کے گرد کیا ھو رھا ھے اس پہ دھیان نہیں دیتے اگر ھر مسلمان یہ سوچے اس کی ذمہ داری پہلے آس پاس کے لوگ ھیں پہلے ھر کام یہاں سے شروع کرنا ھے تو مسلمانوں کی حالت یہ نہ ھوتی ھم اللہ کی محبت میں گھر سے غازی اور شہید بننے کے لیے نکل جاتے ھیں مگر یہ بھول جاتے ھیں اللہ نے قیامت کے دن پہلے ھم سے ھمارے اعمالوں کا پوچھنا ھے لوگوں کا حساب کتاب نہیں پوچھنا
کتنا اچھا ھو اگر روز ھر کوئ اپنا محاسبہ کرے

Keine Kommentare:

Kommentar veröffentlichen