Sonntag, 7. April 2013

حیرت ذدہ ھے عالم خاموش ھیں فضائیں


عجیب سا عالم ھے ھر طرف مایوسی اور نا امیدی کے بادل چھائے ھوئے ھیں کہیں کوئ امید کی کرن نظر نہیں آتی دھند میں لپٹے ھوئے راستے نہ کوئ منزل نہ کوئ رھنما ۔ ایک لمبے عرصے تک پاکستان میں آمریت کا راج تھا آمر حکمران کو سب اچھا ھے سننا پسند تھا ان کے ھر دلعزیز شوکت عزیز ان کے سامنے ایک ھی بات کہتے رھے پاکستان میں سب اچھا ھے مشرف صاحب کا ایک ھی نعرہ تھا سب سے پہلے پاکستان اور انھوں نے یہ سچ کر کے دیکھایا جب بھی قربانی کا وقت آیا انھوں نے پاکستان کی عوام ان کی امیدوں ان کے وقار کا سودا کیا پاکستان کی بیٹیوں کو بے ڈھرک ظالموں کے حوالے کر دیا عوام ان سے تنگ تھی تبدیلی چاھتی تھی پھر جمہوریت کا شور مچا ۔ عوام نے خوش دلی سے نئے حکمرانوں کا استقبال کیا مگر اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احساس ھورھا ھے تبدیلی کے نام پہ صرف چہرے بدلے ھیں کچھ اور نہیں بدلا نہ پالیسی نہ حکمرانوں کی نیت نا عمل ۔۔۔
جمہوریت کے نام پہ مداری نوسربازوں کا گروہ حکمرانی کر رھا ھے جو آئے دن نئے تماشے دیکھا کر پاکستان کو تماشہ بنا رھا ھے ایک دن ایک بیان دیتے ھیں دوسرے دن اپنے ھی بیان کو جھٹلا دیتے ھیں کیا ایسا کرنے سے پاکستان کے وقار کو نقصان نہیں پہنچتا ؟
ایک ھمارے صدر ھیںجو ھر وقت بی بی کے غم میں ڈوبے رھتے ھیں اپنی ھر تقریر میں ھر بیان میں نم آنکھوں سے رقت آمیز لہجے میں بتاتے ھیں بی بی شہید ھو گئیں جیسے موصوف کو ابھی ابھی شہادت کی اطلاع ملی ھے جہاں بھی جاتے ھیں بی بی کی تصویر ساتھ لے کر جاتے ھیں اب لوگ ان سے پوچھنا چاھتے ھیں آخر وہ کب تک بی بی کی لاش اٹھا کر اپنی سیاست چلاتے رھیں گے ان کے پاس پارٹی کی صدارت ھے ملکی بھی بی بی تو اس دنیا سے چلی گئیں اس دنیا کے مسلے مسائل سے دور ۔ اب ملک کے مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری حکمرانِِِِ وقت کی ھے ان لوگوں کی ھے جن کے پاس طاقت ھے وزارت ھے جس کے بدلے وہ ملکی خزانے سے بہت سہولیات پاتے ھیں ۔ مسائل کا انبار بڑھتا جا رھا ھے ملکی سطح پہ بین الاقوامی سطح پہ پاکستان کو بہت سے محاذ پہ لڑنا ھے مگرحکومتی نا اہل اہلکار ایک دوسرے پہ الزامات لگانے میں مصروف ھیں جو حکمران ھیں انھیں اپنی کرسی کی فکر ھے جو حکومت سے باہر ھیں اب کی نظر کرسی پہ ٹکی ھوئ ھے عوام بھوک سے مر رھی ھے رھی سہی کسر راکٹ حملے پوری کر رھے ھیں لوگوں کو ابھی تک یہ پتا نہیں چل رھا وہ اپنوں کے ھاتھوں لٹ رھے ھیں یا غیروں کے
لوگ اس امید پہ اخبار پڑھتے ھیں خبریں سنتے ھیں شاید کوئ اچھی خبر ملے مگر ھرروز مایوسی ھوتی ھے اس مایوسی کا نتیجہ کیا ھوگا یہ سوچنے کا کسی کے پاس بھی وقت نہیں ۔ عوام صرف دعا کر سکتے ھیں مگر شاید اب دعاؤں میں بھی اثر نہیںرھا پاکستان کی غریب عوام کے کے سپنے بہت بڑے نہیں وہ دو وقت کی روٹی اور سکون کی نیند چاھتے ھیں مگر یہ بھی آجکل کے حالات میں ممکن نظر نہیں آرھا کہیں راکٹ سے حملے کا خوف ھے کہیں خود کش حملے کا اور کہیں اسلام کے نام پہ مرنے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Keine Kommentare:

Kommentar veröffentlichen