Samstag, 13. Juli 2013

غریب





 ٹی وی پروگرام  میں ایک عورت ھاتھ پھیلائے کھڑی تھی رو رھی تھی وہ بہت غریب ھے اس کے ساتھ دو چھوٹے چھوٹے بچے تھے روتے ھوئے کہہ رھی تھی اس کے پاس کچھ نہیں

لفظ غریب پہ میری سوچ اٹک گئ مانا دنیا کے لحاظ سے وہ غریب ھو ۔
مگر کیا اس کے پاس واقعی کچھ نہیں ۔
کیا اللہ بھی نہیں ؟؟؟
کیا اللہ نے کچھ نہیں دیا
اولاد
آنکھیں ھاتھ پاؤں
ایک صحت مند وجود
اور زندگی
جب سانسیں ختم ھو جاتی ھیں
دل ڈھرکنا چھوڑ دے
تو بڑے سے بڑا انسان
دولت مند گنگال ھو جاتا ھے
وہ انسان غریب کیسے ھو سکتا ھے
جس کے پاس اللہ ھو
کچھ لوگوں کو دیکھا ھے
پیوند لگے کپڑوں میں اتنے پر سکون ھوتے ھیں
وہ جانتے ھیں وہ غریب نہیں
میرے پاس اللہ ھے
زندگی ھے
صحت ھے
میرے پاس سب کچھ ھے
میں غریب نہیں مالا مال ھوں



Freitag, 26. April 2013

ھم لوگ

ھم مسلمان بھی کتنے عجیب ھوتے ھیں اللہ کے نام پہ ھر پل ھر لمحہ کٹنے مرنے کے لیے تیار ۔ 
جب اللہ کے سامنے جھکتے ھیں تو دنیا مانگتے ھیں ۔ اس کے لیے روتے ھیں گڑ گڑاتے ھیں ھماری خواھش پوری نہ ھو تو اللہ کی ھر نعمت کی نا شکری کرتے ھیں 
دنیا میں ھمیں دنیا چاھئیے اور آخرت میں بھی حوروں کا لالچ - پتا نہیں اللہ ھمرای زندگی میں ھے کہاں 


Sonntag, 7. April 2013

ایک گزارش ھے


یں پاکستان کی ایک عام سی شہری ھوں میری جناب عزت ماآب محترم صدر آصف علی زرداری سے نہایت مودبانہ گزارش ھے ھم ایک غریب قوم ھیں تین سو پینسٹھ دنوں میں سے تین سو دن ھمارے بنا بجلی کے گزرتے ھیں فاقے عام ھیں بنا علاج کے مر جانا کوئ بڑی بات نہیں مر مر کے ماں باپ اپنی اولاد کو تعلیم دلاتے ھیں مگر نوکری نہیں ملتی کسی بھی دفتر میں چلے جائیں بنا رشوت کوئ کام نہیں ھوتا ضروریاتِ زندگی حصول مشکل ھوتا جا رھا ھے مہنگائ دن بدن بڑھ رھی ھے امن و امان کی صورتحال خراب سے خراب تر ھوتی جا رھی ھے جاگیردار اور وڈیرے ھم لوگوں کو زر خرید غلام سمجھتے ھیں محنت کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا زندگی کی کوئ ضمانت نہیں کب کیا ھو جائے کوئ کچھ نہیں کہہ سکتا زندگی مسلسل امتحان بن گئ ھے ھم برسوں انھیں حالات سے دوچار ھیں مگر ھم کئ دھائیوں سے خا موش ھیں کبھی کوئ آواز نہیں اٹھائ مگر اب مجبور ھورھے ھیں
ھمارے ملک کے دو ٹکرے ھو گئے ھم خاموش رھے چہرے بدلے رھے حکومتیں بدلتی رھیں مگر ھم لوگوں کے حالات نہیں بدلےبرسوں آمر حکمران رھے ھم ھر ظلم خاموشی سے سہتے رھے ھمارے ملک کے کونے کونے میں آگ بھڑکتی رھی لوگ مرتے رھے اپنے اور غیر ھمیں مارتے رھے کبھی ڈرون حملے ھوئے کبھی لوگ غائب ھوئے ملکی خزانہ بار بار لوٹا گیا عوام غریب سے غریب تر اور حکمران امیر سے امیر ترین ھوتے رھے ھم خاموش رھے اس امید سے کبھی تو حالات بدلیں گے حکمرانوں کو کبھی تو عوام کا خیال آئے گا ان لوگوں کا جن کے ووٹ سے وہ منتخب ھوئے ھیں اب آپ سے اتنی گزارش ھے ساری دنیا میں ھماری غربت کا مذاق اڑانا بند کریں ھم غریب ھیں مگر عزتِ نفس رکھتے ھیں حالات کا شکار ھیں مگر بھکاری نہیں ھمارا نام لے کر ھمارے زخم دیکھا کر دنیا بھر جا جا کر ھمارے نام سے بھیک لینا بند کر دیں ھمیں آپ کے خلوصِِِ نیت پہ شک نہیں

اگر آپ کو ھمارا اتنا خیال ھے تو حالات کے شکارلوگوں کے پاس جا کر اپنی محبت کا اظہار کریں ان کے زخموں پر مرھم رکھیں صرف ٹی وی پہ ھی خطاب نہ کریں بلکہ سال میں چند گھنٹے عوام کے ساتھ گزاریں انکےمسلے مسائل انسے سنیں غریب عوام کو اس میں کوئ دلچسپی نہیں آپ نے کتنے میلین ڈالر ھمارے نام سے بطور امداد کے اکٹھے کیے اگر عوام کا اتنا خیال ھے تو اپنے غیر ملکی اثاثے پاکستان میں منتقل کر دیں مرسڈیز کاروں کے بجائے کسانوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے امیروں کے قرضے معاف کرنے کے بجائے غریبوں کو آسان اقساط پہ قرضے دیئے جائیں غیر ملکی دوروں پہ اتنا ھی خرچ کریں جتنا ایک غریب ملک کے صدر کو کرنا چاھئے اپنے ساتھ ان لوگوں کو لے کر جائیں جو اسلامی احکامات کی پابندی کریں غیر ممالک میں اسلام کے پاکستانی عوام کا نمائندہ بن کر جائیں
آپ سے اتنا عرض کرنا ھے پاکستانی عوام میں بہت برداشت ھے بہت حوصلہ ھے وہ بھوکے مر جائیں گے پاکستان کے لیے سب کچھ برداشت کر لیں گے صرف ھم سب کے قوتِ بازو پہ اعتبار کریں اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں سے نوازا ھے ان سے فائدہ اٹھائیں ھمیں اپنے پاؤں پہ کھڑا ھونے کا موقعہ دیں جب تک ھم اپنے پاؤں پہ نہیں کھڑے ھوں گے پاکستان کیسے چلے گا ترقی کی نئ منزلیں کیسے طے کرے گ

پاکستان بہت یاد آیا


صبح آنکھ کھولی ذہن میں جو پہلی بات آئ چودہ اگست ساتھ ھی پوری آنکھیں کھول گئیں لیٹ کر سوچتی رھی آج کیا کرنا ھے کھڑکی کھولی باہر خاموشی تھی کہیں کوئ سبز پرچم لہراتا ھوا نظر نہیں آرھا تھا تی وی آن کیا ملی نغمے لگے ھوئے تھے ایک دم پاکستان کے لیے دل تڑپا گاڑی لے کر باہر نکل گئ بھاگتی ھوئ گاڑیاں تیز تیز چلتے ھوئے لوگوں کے ھوتے ھوئے بھی عجیب سی ویرانی لگ رھی تھی جیسے مردوں کے شہر میں گھوم رھی ھوں دل کیا ریڈ سگنل سے فل سیپڈ سے ہارن بجاتی ھوئ گزروں پاکستان کی آزادی کو یورپ میں بیٹھ کر محسوس کروں مگر قانون اور جرمانے کا سوچ کر مقررہ سیپڈ سے گاڑی چلاتی رھی چاکلیٹ لی خالی پیکینگ دل چاہا چلتے ایسے ھی اچھال کر پھینک دوں پاکستان میں ھم اکثر کوڑے کے ڈھیر دیکھ کر حکومت کے بارے میں بے لاگ تبصرے کرتے ھوئے پاکستان کے لیے اپنی محبت اور فکر کا اظہار کرتے ھیں پھر اسی کچرے کے ڈھیر پہ گند پھینک کر اپنے پاکستانی ھونے کا ثبوت دیتے ھیں
آج ھر موڑ سے گزرتے ھوئے پاکستان یاد آرھا تھا سڑک کی دونوں جانب گلاب کے پودے لگے ھوئے تھے مگر خوشبو نہیں تھی پاکستان میں ایک گلاب کاپودا ھو تو اس کی خوشبو سے ساری گلی مہکتی ھے یہاں پھول ھیں خوشبو نہیں پاکستان میں ھر جذبہ خالص ھوتا ھے
پاکستانی لوگ کھاتے ھیں تو ڈٹ کر کھاتے ھیں سوتے ھیں تو مست ھو کر سوتے ھیں محبت میں لوگ جان لٹانے کےلیے تیار ھو جاتے ھیں محبت بچھڑ جائے تو دنیا کو چھوڑنے کے لیے تیار ھو جاتے ھیں یہاں کی طرح نہیں محبت کھیل ھوتی ھے
گورے گورے لوگ نیلی آنکھیں ان سب کو دیکھ کر کسی ربورٹ کا احساس ھورھا تھا مجھے اپنے پاکستانی لوگ یاد آرھے تھے گرمی اور حالات سے مرجھائے ھوئے چہرے بے بس آنکھیں اداس آنکھیں کچھ کہتی ھوئ خاموش آنکھیں ھر آنکھ میں ایک نئ کہانی ھوتی ھے وہ گندہ مندہ سا ملک میرا ھے بھوک اور دھشت گردی سے مرتے ھوئے لوگ میرے ھیں آج پاکستان بہت یاد آتا رھا آج مجھے کششِ ثقل پہ یقین آیا ہاں زمین میں کشش ھوتی ھے جو سات سمندر پار سے بھی اپنی طرف کھینچتی ھے انسان آسمان کی اونچائ کو بھی چھونے لگے وہ وہاں اتنی دیر ٹھہر نہیں سکتا زمین کی طرف بے اختیار کھینچتا ھے میرے وطن کی زمین میں بہت کشش ھے آج اس بات پہ بھی یقین آگیا محبت اندھی ھوتی ھے یورپ کی خوبصورتی کے ھوتے ھوئے بھی دل پاکستان کے لیے ڈھرکتا ھے
محبت دولت نہیں دیکھتی یہ دلوں کےرشتے ھوتے ھیں اور دلوں کے رشتے کبھی ٹوٹتے نہیں

اپنے حصے کا کام


میں اکثر سوچتی تھی آخر حج پہ لاکھوں لوگ دعائیں کرتے ھیں ھر وقت دنیا میں کہیں نہ کہیں نماز کا وقت ھوتا ھے ھر وقت لوگ سجدے میں ھوتے ھیں اللہ کے سامنے ھاتھ پھیلاتے ھیں پھر ھماری دعائین کیون نہیں سنی جاتیں آج ایک لطیفہ پڑھا تو سمجھ آیا ایک آدمی روز دعا کرتا ھے اےاللہ میری لاٹری نکل جائے دس سال بعد ایک فرشتہ آتا ھے ھاتھ جوڑ کر کہتا ھے اللہ کے لیے بھائ لاٹری بھر لے ۔۔
ھمارا بھی یہی حال ھے ھم اپنے حصے کا کام نہیں کرتے بس دعا کر کے سمجھتے ھیں سب کام اللہ کرے حیلہ کرو تو اللہ وسیلہ بناتا ھے
ھم اسلام کی ترقی کے لیے دعا کرتے ھیں
عالمِ اسلام کے اتحاد کی دعا کرتے ھیں
ھمامن کے لیے دعا کرتے ھیں
حالات کی تبدیلی کی دعا کرتے ھیں
کیا دعا سے پہلے ھماپنے حصے کا کام کرتے ھیں ؟؟
یہ نہ ھو فرشتوں کی فوج اترے اور ھاتھ جوڑ کر سب مسلمانوں سے کہیں اللہ کے لیے اپنے حصے کا کام تو کر لو اللہ تو تمہاری دعائیں قبول کرنے کے لیے کب سے بے چین ھے

دل یہ ھمارا دل






میڈیکل نقطہ نگاہ سے دل ایک چھوٹا سا عضو ھے جو ھمارے جسم کو خون سپلائ کرتا ھے مگر ھر انسان کی سوچ اور خیال اس کے بارے میں الگ ھے 
کیونکہ دل کا معاملہ سب کا الگ ھوتا ھے 
دل کی بات دل والے سمجھتے ھیں
کسی کا دل پاگل ھوتا ھے کسی کا دیوانہ
کسی کا دل دنیا سے بے زار
کسی کی دل دنیا کی چاہت سے بھرا ھوا 
کسی کا دل ایک چھوٹے سے بچے کی طرح شوخ وچنچل 
ھر چیز کی خواہش اور آرزو کرتا ھوا
کسی دل بے اختیار ھوتا ھے جو اپنی چلاتا ھے 
اپنی من مانی کرتا ھے اپنی ھر ضد منواتا ھے 
کچھ اللہ لوک دل ھوتے ھیں جو ھر حال میں خوش رھتے ھیں 
آرزو پوری نہ ھونے پہ صبر کرتے ھیں
کچھ دل ایک خواہش پوری نہ ھونے پہ جینے کی آرزو چھوڑ دیتے ھیں
کچھ پتھر دل ھوتے ھیں
کچھ کانچ کے بنے ھوئے 
کچھ کے دل آئینے جیسے 
کچھ موم سے بنے ھوئے 
آخر ھمارا دل ھے کیا ۔۔ جو کبھی تنہائ میں بھی محفل آباد کرتا ھے
کبھی محفل میں بھی تنہا رہتا ھے 
کبھی ٹوٹ جاتا ھے 
کبھی کسی کو توڑ دیتا ھے 
کبھی تڑپتا ھے سلگتا ھے 
دن رات دل کی نگری میں برسات ھوتی ھے 
کبھی پیاسا اور کبھی بن آنسو روتا ھے
کبھی خون کے آنسو رلاتا ھے



کندن اور کوئلہ


کچھ لوگ ھوتے ھی جو زندگی میں نا کام ھوتے ھیں پھر نئے سرے سے زندگی کا اغاز کرتے ھیں اور دنیا میں بڑا نام کماتے ھیں زندگی کے آزمائیش ان کو کندن بنا دیتی ھیں یہ بات بھی ھے ھر انسان سونا نہیں ھوتا اور کچھ لوگ ھوتے ھیں ان پہ کوئ مصیبت آتی ھے تو ھمت ھار کر بیٹھ جاتے ھیں اللہ کی ذات پہ یقین نہیں کرتے اپنے دکھوں کی آگ میں جل جل کر کوئلہ بن جاتے ھیں ۔۔۔ کوئلہ جو خود بھی جلتا ھے اوروں کو بھی جلاتا ھے ۔۔
اگر آپ کو اللہ پہ یقین ھے تو آپ آزمائیشوں میں جل کر کندن بن جائینگے ورنہ کوئلہ ۔۔۔۔

دنیا کے رنگ

دنیا میں کتنے لوگ ھیں ھر کسی کی سوچ دوسرے سے الگ ھے ھر کسی کی قسمت بھی دوسرے سے الگ ھے مگر ھم دنیا میں جہاں بھی دیکھتے ھیں ھمیں کچھ کردار ھر جگہ ھر خطے ھر ملک ھر بستی میں نظر آتے ھیں ظالم مظلوم امیر غریب ۔ محبت کی کہانی میں ولن ۔ خوشی کے ساتھ غم ۔ موت کے ساتھ زندگی اور زندگی کے ساتھ بیماری اور پریشانیاں ۔ محبت کے ساتھ نفرت حسد ملن کے ساتھ بچھڑنا ۔ ایک پل کے لیے سوچیں اگر دنیا میں کوئ ظالم نا ھوتا کسی کہانی میں ولن نا ھوتا کوئ دکھ نا ھوتا کوئ کسی سے نفرت نا کرتا تو دنیا کیسی ھوتی کہانیاں کیسے بنتی فلمیں کیسی ھوتی آگے بڑھنے کا جذبہ کیسے پیدا ھوتا بیماریاں نا ھوتی تو یہ تحیقیق کیسے ھوتی دنیا میں جو ھر کوئ بھاگ رھا ھے پھر کیا سب ایسے ھوتا غم نا ھوتا تو خوشی کی قدر کیسے ھوتی بچھڑنے کا دکھ نا ھوتا تو ملن کا کیا مزا ھوتا دکھ نا ھوتا تو لمبے لمبے سجدے کون کرتا کیونکہ خوشی میں تو ھم اللہ کو بھی بھول جاتے ھیں ھمیں کوئ غم ملتا ھے کوئ بچھڑتا ھے کوئ عزیز بیمار ھوتا ھے کسی کی چاہ ھوتی ھے کوئ آرزو ھوتی ھے تو سجدے لمبے ھو جاتے ھیں آپ کا کیا خیال ھے دنیا کیسی ھوتی یہ 24 گھنٹے چلنے والے نیوز چینلز اخبارات رسالوں میں کیا ھوتا ؟؟؟؟؟؟

دربار ِ دل


دربار ِ دل
کہتے ھیں اللہ دل میں بستا ھے ۔ ھم کبھی اپنے دل میں نہیں جھانکتے جس دل میں اللہ بستا ھے وہ دل کیسا ھے
کل میں اپنے دل کے دربار میں گئ سارا وقت وہیں گزارہ سارا وقت وہاں گھومتی رھی اپنے دل کے گلی کوچوں میں جھانک کر بہت افسوس ھوا
اللہ کے ساتھ ھزار بت ایستادہ تھے چھوٹے بڑے دیو قامت بت بہت سے بت دیکھنے میں بہت خوبصورت لگ رھے تھے میں سوچنے لگی – کیا اللہ کے ساتھ یہ بت رہ سکتے ھیں ؟؟ جہاں اللہ ھو وہاں بتوں کا کیا کام
دن میں پانچ نمازیں — ایک گھنٹا اللہ کے ساتھ
باقی تیئس گھنٹے ان بتوں کے ساتھ – میں نے سوچا ان سب بتوں کو توڑ دوں مگر کیسے ۔۔ دن کے باقی تیئس گھنٹے ان بتوں کے ساتھ بسر ھوتے ھیں ۔ ان بتوں کو توڑ دیا تو دن کیسے گزرے گا مجھے ان بتوں سے نفرت ھے
مگر ان سب کی عادت ھو چکی ھے ان سب کو کیسے توڑ دوں
کبھی اپنے دل کی نگری سے گزر ھوا ھے آپ کا ۔۔۔
کہیں حسد کی آگ جل رھی ھے
کہیں نفرتوں کی دیواریں ھیں
کہیں خود غرضی
تو کہیں خود پرستی ھے
کہیں اپنی ذات برادری کا غرور
کہیں اپنے عہدے اور مال و دولت کا مان
اپنی تعلیم اپنی خوبصورتی کا احساس
چھوٹے بڑے ھزار بت تکبر کے
ان سب کے درمیان کہیں لکھا ھوا اللہ کا نام
دل کے دربار کا شہنشاہ کون ھے
دل کے مندر میں پوجا کس کو جاتا ھے
دل کی نگری میں حکمرانی کس کی ھے
کل میں اپنے دل کی نگری میں گھومتے ھوئے روتی رھی آنسو بہاتی رھی
مگر یہ بت کچی مٹی کے تو بنے ھوئے نہیں تھے جو چند انسوؤں سے بہہ جاتے ۔ وہ تو ویسے ھی تھے میرے دل کی نگری ان سے آباد تھی ۔ ان کو کیسے اٹھا کر باھر پھینک دوں – آگ لگا دوں – اپنے دل کی نگری کیسے خود برباد کر دوں -
کیا آپ نے کبھی اپنے دل میں بسے بتوں کو توڑا ھے ؟؟
یا آپ کے دل میں کوئ بت نہیں ھے ؟؟
ایک عام انسان کا دل مندر کی طرح ھوتا ھے بتوں سے بھرا ھوا ۔
ھر مسلمان کا دل مسجد نہیں ھوتا –
مسجد میں تو سب برابر ھوتے ھیں وہاں دولت کی نمائش نہیں ھوتی
ذات برادری کو نہیں دیکھا جاتا
وہاں تو اللہ کے حضور نگاھیں جھکی ھوتی ھے صورت کو نہیں پرکھا جاتا
وہاں نفرتوں کی باتیں نہیں ھوتی
میں نے اپنے دل کے دربار میں جانے کے بعد جانا ۔ میرا دل ایک مندر ھے – وہ مسجد کب تھا – یا میں نے اسے سنوارنے کی کوشش بھی کب کی تھی
————————————————-

ایک بیچارے شوھر کی داستان




سنا ھے محبت اندھی ھوتی ھے ۔ یہ تو پکی بات ھے اسے مجھ سے محبت نہیں تھی پھر پتا نہیں اس کی مت کیوں ماری گئ میں نے اسے پرپوز کیا اس نے قبول کر لیا وہ ایک شہزادی تھی ایک ریاست کی جانشین میں ایک عام سی شکل و صورت کا انسان
جتنے بھی چمکتے دمکتے قیمتی لباس پہنتا عام سا ھی لگتا
میں آگے ھونے کی کوشش کرتے مگر سب کی توجہ اسی پہ رھتی ۔ اس کے لہجے میں رعب و دبدبہ تھا میں اکثر اس سے دب جاتا تھا میں نے اپنی شخصیت کو با رعب بنانے کے لیے بڑی بڑی مونچھیں رکھ لیں مگر کوئ فائدہ نہیں ھوا – میری بس اتنی اھمیت تھی میں اس کا شوھر ھوں -
ایک دن خبر ملی اسے کسی دشمن نے مار دیا ھے مجھے تو یقین نہیں آیا ۔ سمجھ نہیں آئ کیسا ردِ عمل دیکھاؤ آنکھوں میں آنسو تھے اور دل میں سکون
ولی عہد بھی نا بالغ تھا سب سیاہ و سفید کا مالک میں بن گیا
میں نے اپنا ھیئر اسٹائل چینج کر لیا چہرے پہ ایک پرسکون مسکراہٹ رھنے لگی تھی وہ جگے ڈاکو جیسی مونچھیں بھی کٹوا لیں تھی
میں ایک جلسے میں شرکت کے لیے گیا جانبازوں نے نعرہ لگایا ملکہ زندہ ھے ملکہ زندہ ھے میرے ھاتھوں طوطے کبوتر بٹیرے سب اڑ گئے میرا اوپر کا سانس اوپر نیچے نیچے رہ گیا میں نے اپنے سیکر ٹری کو گھور کر دیکھا دفنایا تو صیحیح تھا نا ۔۔۔۔۔ میں نے تو قبر بھی پکی بنوائ تھی ۔ ٹھیکیدار پاکستانی تھا پتا نہیں سیمنٹ کون سا لگوایا تھا
یا ریت کی دیوار کھڑی کی تھی ۔ وہ تو جوشیلی بھی اتنی تھی کہیں ملک کے حالات دیکھ کر نکل ھی نا آئ ھو
میں نے سیکر ٹری کے کان میں کہا یہ سب کیا نعرے لگا رھے ھیں
اس نے کہا سر جی شہید مرتے تھوڑی ھے
اوہ اچھا یہ کہہ رھے ھیں
میں نے مائک میں کہا ملکہ ھمارے دلوں میں زندہ ھے اور ھمیشہ زندہ رھے گی
مگر ان کے کان پہ جوں تک نہیں رینگی
ملکہ زندہ ھے کے نعرے لگاتے رھے دل تو کیا سب جانبازوں کو چوک میں الٹا لٹکا کر اتنے جوتے لگواؤں کے لگ پتا جائے کہ زندہ کیا ھوتا ھے اور مردہ کیا
جتنے بھی میرے مخالف تھے انھوں نے بھی یہ بات کہنا شروع کر دی جب بھی میں کوئ بڑی بات کہتا کوئ بڑا وعدہ کرتا مخالفین نعرے بازی شروع کر دیتے ملکہ زندہ ھے
کبھی کبھی ایسے لگتا جیسے مجھے چھیڑا رھے ھیں جیسے مجھے کہہ رھے ھیں
اوئے آجا اپنی اوقات پہ ملکہ زندہ ھے
لوگوں کے فارغ اوقات کا مشغلہ بن گیا تھا ایک دوسرے کو ایس ایم ایس کرتے رھتے تھے مجھے بھی میسج آتے تھے
کہاں ھو چلے آؤ
تم بن جنت سونی ھے
آجاؤ جنت میں تمہارا انتظار ھے
میں سب پڑھ کر ھنستا رھتا تھا
پہلا تو مجھے جنت میں جانے کا یقین نہیں تھا
دوسرا اگر میں جنت میں چلا بھی جاتا تو
کیا میں ستر بہتر حوروں کو چھوڑ کر ملکہ کے پاس جاتا
ھونہہ
کیا آپ لوگ مجھے جانتے نہیں
نوٹ ———————————
دنیا میں کروڑوں لوگ ھیں اور اکثر کسی نہ کسی کے شوھر ھیں
یہ بس ایک کہانی ھے اپنے عقل کے گھوڑے بھگانے کی ضرورت نہیں ھے اگر آپ کو کوئ مماثلت کہیں نظر آتی ھے تو اس میں بندی کا کوئ قصور نہیں –

حیرت ذدہ ھے عالم خاموش ھیں فضائیں


عجیب سا عالم ھے ھر طرف مایوسی اور نا امیدی کے بادل چھائے ھوئے ھیں کہیں کوئ امید کی کرن نظر نہیں آتی دھند میں لپٹے ھوئے راستے نہ کوئ منزل نہ کوئ رھنما ۔ ایک لمبے عرصے تک پاکستان میں آمریت کا راج تھا آمر حکمران کو سب اچھا ھے سننا پسند تھا ان کے ھر دلعزیز شوکت عزیز ان کے سامنے ایک ھی بات کہتے رھے پاکستان میں سب اچھا ھے مشرف صاحب کا ایک ھی نعرہ تھا سب سے پہلے پاکستان اور انھوں نے یہ سچ کر کے دیکھایا جب بھی قربانی کا وقت آیا انھوں نے پاکستان کی عوام ان کی امیدوں ان کے وقار کا سودا کیا پاکستان کی بیٹیوں کو بے ڈھرک ظالموں کے حوالے کر دیا عوام ان سے تنگ تھی تبدیلی چاھتی تھی پھر جمہوریت کا شور مچا ۔ عوام نے خوش دلی سے نئے حکمرانوں کا استقبال کیا مگر اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ احساس ھورھا ھے تبدیلی کے نام پہ صرف چہرے بدلے ھیں کچھ اور نہیں بدلا نہ پالیسی نہ حکمرانوں کی نیت نا عمل ۔۔۔
جمہوریت کے نام پہ مداری نوسربازوں کا گروہ حکمرانی کر رھا ھے جو آئے دن نئے تماشے دیکھا کر پاکستان کو تماشہ بنا رھا ھے ایک دن ایک بیان دیتے ھیں دوسرے دن اپنے ھی بیان کو جھٹلا دیتے ھیں کیا ایسا کرنے سے پاکستان کے وقار کو نقصان نہیں پہنچتا ؟
ایک ھمارے صدر ھیںجو ھر وقت بی بی کے غم میں ڈوبے رھتے ھیں اپنی ھر تقریر میں ھر بیان میں نم آنکھوں سے رقت آمیز لہجے میں بتاتے ھیں بی بی شہید ھو گئیں جیسے موصوف کو ابھی ابھی شہادت کی اطلاع ملی ھے جہاں بھی جاتے ھیں بی بی کی تصویر ساتھ لے کر جاتے ھیں اب لوگ ان سے پوچھنا چاھتے ھیں آخر وہ کب تک بی بی کی لاش اٹھا کر اپنی سیاست چلاتے رھیں گے ان کے پاس پارٹی کی صدارت ھے ملکی بھی بی بی تو اس دنیا سے چلی گئیں اس دنیا کے مسلے مسائل سے دور ۔ اب ملک کے مسائل کو حل کرنے کی ذمہ داری حکمرانِِِِ وقت کی ھے ان لوگوں کی ھے جن کے پاس طاقت ھے وزارت ھے جس کے بدلے وہ ملکی خزانے سے بہت سہولیات پاتے ھیں ۔ مسائل کا انبار بڑھتا جا رھا ھے ملکی سطح پہ بین الاقوامی سطح پہ پاکستان کو بہت سے محاذ پہ لڑنا ھے مگرحکومتی نا اہل اہلکار ایک دوسرے پہ الزامات لگانے میں مصروف ھیں جو حکمران ھیں انھیں اپنی کرسی کی فکر ھے جو حکومت سے باہر ھیں اب کی نظر کرسی پہ ٹکی ھوئ ھے عوام بھوک سے مر رھی ھے رھی سہی کسر راکٹ حملے پوری کر رھے ھیں لوگوں کو ابھی تک یہ پتا نہیں چل رھا وہ اپنوں کے ھاتھوں لٹ رھے ھیں یا غیروں کے
لوگ اس امید پہ اخبار پڑھتے ھیں خبریں سنتے ھیں شاید کوئ اچھی خبر ملے مگر ھرروز مایوسی ھوتی ھے اس مایوسی کا نتیجہ کیا ھوگا یہ سوچنے کا کسی کے پاس بھی وقت نہیں ۔ عوام صرف دعا کر سکتے ھیں مگر شاید اب دعاؤں میں بھی اثر نہیںرھا پاکستان کی غریب عوام کے کے سپنے بہت بڑے نہیں وہ دو وقت کی روٹی اور سکون کی نیند چاھتے ھیں مگر یہ بھی آجکل کے حالات میں ممکن نظر نہیں آرھا کہیں راکٹ سے حملے کا خوف ھے کہیں خود کش حملے کا اور کہیں اسلام کے نام پہ مرنے کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

چاند میری زمین پھول میرا وطن

بچپن میں دنیا کتنی حسین لگتی ھے ۔۔ پھول جگنو تتلیاں من کو بھاتی ھیں ۔ ایسے لگتا ھے جیسے دنیا میں کوئ دکھ درد نہیں صرف خوشیاں ھی خوشیاں ھیں بارش میں بھیگنا سردی کی دھوپ گرمی کے بادل اور رات کو چاند کی چاندنی ۔۔ چاند میں رھنے والی بڑھیا کو روز ڈھونڈنا کبھی حیرت سے چاندنی کو دیکھنا۔ لگتا تھا چاند سے زیادہ حسین کچھ اور ھو ھی نہیں سکتا ۔ پھر جب 14 اگست یا 23 مارچ کو قومی نغمے بجتے تھے تو عجیب سا احساس جاگتاا تھا ۔ ایک نغمہ جو مجھے بہت ہی پیارا لگتا تھا "چاند میری زمین پھول میرا وطن" تو میں سوچا کرتی تھی اگر چاند زمین پر آجائے تو کیسا لگے گا پاکستان جیسا روشن پھولوں کی طرح مہکتا ھوا میری دنیا پاکستان تھا اور اس کے رکھوالے فوجی میرا آئیڈیل پھر جب بڑی ھوئی تو احساس ھوا دنیا ویسی نہیں جیسا میں سوچتی ھوں یہاں خوشیاں ھی نہیں دکھ اور پریشانیاں بھی ھیں غربت اور بیماریاں بھی ھیں محبت ھی نہیں نفرتیں بھی ھیں بے ایمانی دھوکہ دھی تعصب بھی ھے یورپ میں آکر یہاں کی ترقی دیکھی پھر پاکستان سے موازنہ کیا تو کبھی عوام پہ غصہ آتا ھے کبھی حکمرانوں پہ - پچھلے ھفتے کچھ امید ھوئی کہ عوام سوئے ہوئے نہیں جاگ رھے ھیں کاش انھیں اپنی طاقت کا احساس ھو کہ وہ قدم ملا کرایک قوم بن کر ساتھ چلیں تو حکمرانوں کی نیندیں حرام ہو جائیں اور حکمرانوں کو اس بات کا احساس ھو اللہ نے انھیں پھر ایک موقعہ دیا ھے کیا پتا یہ آخری موقعہ ھوآج کے دن دعا ھے میرے پاکستان کو اللہ ویسا بنا دے جیسا میں بچپن میں سوچتی تھی آج پاکستان ایسا ھے جیسا حقیقت میں چاند جہاں نہ صاف ھوا ھے نہ بجلی نہ ضرویات زندگی ۔ اللہ کرے پاکستان ویسا بن جائے جیسے میرے تصورمیں بچپن میں تھا دنیا کا سب سے حسین چاند کی طرح روشن اور پھولوں کی طرح مہکتا ھوا

کیا ھمیں حق ھے ؟؟؟؟؟



ھم مسلمان ھیں کیا حقیقت میں مسلمان ھیں ؟؟
ھم یہ بحث کیوں کرتے ھیں کہ کون مسلمان ھے ھمیں یہ حق کس نے دیا کہ ھم دوسروں کے ایمانوں کا فیصلہ کر سکیں ؟؟
کیا ھمارے اعمال اس قابل ھیں کہ ھم فخر سے کہہ سکیں کہ ھم اللہ کے سب حکم مانتے ھیں کیا ھم قرآن کو سمجھ چکے ھیں کیا ھمارا اسلام صرف نمازوں تک محدود نہیں ؟
گھر بیٹھ کر فتوے دیا بہت اسان ھے مگر یورپ میں آکر یہاں کے قانون کی پابندی دیکھتے ھیں تو کہتے ھیں ھاں اسلام میں صفائ کی بہت اھمیت ھے صفائ نصف ایمان ھے پھر اسلامی ممالک میں وہ نصف ایمان نظر کیوں نہیں آتا ؟؟
یتیموں کی کفالت کرنے والا قیامت کے رسولِ کریم کے ساتھ ھوگا اگر ھمیں رسولِ کریم سے محبت ھے تو یتیم کیوں بھٹک رھے ھیں
دوسروں کے سامنے ھاتھ پھیلانا ھمارے نبی کا نا پسندیدہ عمل ھے سڑکوں سے لے کر پارلیمنٹ تک مدد کے لیے کیوں ھاتھ پھیلاتے ھیں ؟؟
ھم مسلمان ھیں مگر یہ بات بھول جاتے ھیں اسلام گھر سے شروع ھوتا ھے گھر کی چار دیواری کے گرد کیا ھو رھا ھے اس پہ دھیان نہیں دیتے اگر ھر مسلمان یہ سوچے اس کی ذمہ داری پہلے آس پاس کے لوگ ھیں پہلے ھر کام یہاں سے شروع کرنا ھے تو مسلمانوں کی حالت یہ نہ ھوتی ھم اللہ کی محبت میں گھر سے غازی اور شہید بننے کے لیے نکل جاتے ھیں مگر یہ بھول جاتے ھیں اللہ نے قیامت کے دن پہلے ھم سے ھمارے اعمالوں کا پوچھنا ھے لوگوں کا حساب کتاب نہیں پوچھنا
کتنا اچھا ھو اگر روز ھر کوئ اپنا محاسبہ کرے

یکم مئ ------ لیبر ڈے


یکم مئ عام لوگوں کے لیے ایک عام تعطیل کا دن ۔ مزدوروں کے لیے آرام کا دن اس دنیا کے مختلف ممالک میں جلسے جلوس ھوتےریلیاں نکالی جاتی ھیں سمینار ھوتے ھیں تقریریں ھوتی ھیں محنت کش لوگوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا ھے ان لوگوں کو جنھیں ھم سارا سال کمی کمین کہتے ھیں ان کی شان میں قصیدے پڑھے جاتے ھیں جن کے حقوق کو سارا سال پامال کیا جاتا ھے ان کے حقوق کی باتیں کی جاتی ھیں

اسلام میں ھاتھ سے کام کرنے والے محنت کر کے کمانے والے متقی انسان قابل عزت اور قابل احترام ھیں مگر کیا ھمارے معاشرے میں ایک مزدور اور محنت کش کو وہ مقام مل رھا ھے جس کا وہ حق دار ھے ھمارے ھاں ایک عام مزدور کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ھے کوئ کام کمتر نہیں ھوتا ھمارے مذہب میں ھاتھ پھیلانے کو برا سمجھا جاتا ھے خود محنت کر کے کمانے والے کا رتبہ بہت اونچا ھے صحابہ اکرام لکڑیاں کاٹتے تھے گلہ بانی کرتے تھے رسول کریم اپنے جوتے تک خود مرمت کرتے تھے

1886 میں شروع ھونے والی اس تحریک سے دنیا کے محنت کش لوگوں کی زندگی میں کتنا بدلاؤآیا ھے میں یہ بحث نہیں کرونگی ۔ مگر برسوں سے لیبر ڈے منانے والے پاکستان میں عام مزدور کی زندگی میں کیا انقلاب آیا ھے ان کو کتنی سہولیات مل رھی ھیں اس پہ بات کرونگی حکومت کیا اقدامات کر رھی ھے اور کیا ھو نا چاھیے
پاکستان میں پچھلے دس سال میں مہنگائ سو گنا بڑھ گئ مگر ایک عام مزدور کی مزدوری میں کوئ خاطر خواہ اضافہ نہیں ھوا جیسے پہلے دو وقت کی روٹی ملتی تھی اسے اب ایک وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ھیں
یہ حقیقت ھے ملک کی ترقی میں جتنا حصہ سرمایہ دار صعنتکار اور جاگیر دار کا ھوتا ھے اتنا ھی ایک عام مزدور کا ھوتا ھے سرمایہ دار اگر سرمایہ لگاتا ھے تو مزدور محنت کرتا ھے اپنا خون پسینہ بھاتا ھے وہ بھی مالک کے برابر عزت دار ھے اس کے بھی حقوق ھیں مگر افسوس سے کہنا پڑتا ھے پاکستان میں سرمایہ دار صعنتکار جاگیر دار محنت کش مزدوروں سے جانوروں کی طرح کام لیتے ھیں اور کام کے بدلے وہ اجرت نہیں دیتے جس کے وہ حقدار ھوتے ھیں

حکومت کو چاھیے وہ کام جن میں جان کا خطرہ ھو ان کی اجرت مقرر کرے بلڈنگز بنانے والے مزدور بھٹے پہ کام کرنی والی عورتیں اور بچے ۔ کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے ۔ لیدر کی فیکٹریوں اور کپاس کے کھیتوں میں کام کرنے والے لوگوں کو مختلف امراض کا خطرہ دفتروں میں کام کرنے والے لوگوں سے کئ گنا زیادہ ھوتا ھے
کام پہ ھونے والے حادثات میں معذور ھونے والے اور جان سے ھاتھ دھونے والے مزدوروں کو اس وقت تک معاوضہ ملنا چاھیے جب تک ان کے بچے کمانے کے قابل نہیں ھو جاتے اکثر جگہ پہ تین مہینے کی تنخواہ دے کر فارغ کر دیا جاتا ھے علاج کی سہولیات بھی نہیں دی جاتیں
کھیتوں میں کام کرنے والے کسان ھوں یا فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور یا کوئ محنت کش ان کو ان کی محنت کا معاوضہ ملنا چاھیے رونہ پیسہ چند ھاتھوں میں اکٹھا ھو جاتا ھے اور معاشرے میں طبقاتی خلیج بڑھتی جاتی ھے عوام میں محرومی کا احساس پیدا ھوتا ھے جب سے کئ مجرم پیدا ھوتے ھیں جب احساس ِ محرومی بڑھتا ھے اور معاشرہ توڑ پوڑ کا شکار ھوجاتا ھے جرائم بڑھنے لگتے ھیں
اور پاکستان میں یہی ھورھا ھے پاکستان میں صرف دو طبقے رہ گئے ھیں اپر کلاس اور لوئر کلاس - ایسے میں نوجوان طبقے کے دلوںمیں نفرت کے جذبات پنپنے لگتے ھیں جب ایسے حالات ھوں تو انقلاب آتے ھیں
تیسری دنیا میں محنت کش مزدور پس رھا ھے پاکستان میں 45 % لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رھے ھیں
حکومتی سطح پر مزدوروں کے لیے کوئ ٹھوس اقدامات کرنے چاھیے ان کے لیے قانون بنانے کی ضرورت ھے اور اس پہ سختی سے عمل کروانے کی ضرورت ھے ملک کی حالت اس وقت تک نہیں بدلے گی جب تک ایک عام انسان کی زندگی نہیں بدلے گ

اے قائد ھم شرمندہ ھیں


محمد علی جناح جنھیں ھم قائد اعظم کہتے ھیں پاکستانی سب رہنماؤں کے رہنما ۔ ھمارے قائد جنھوں نے ھمیں ایک آزاد ملک کا تحفہ دیا ۔ بدلے میں ھم نے ھر نوٹ پہ ان کی تصویر لگا دی مگر رشوت لیتے یا دیتے ھوئے کبھی شرمندہ نہیں ھوتے غبن کرتے ھوئے ملکی دولت کو لوٹتے ھوئے نوٹوں پہ کبھی ان کی تصویر پہ نظر نہیں جاتی ۔ ان کی پارٹی مسلم لیگ کے ٹکڑے کر دیے اپنی سیاست چمکانے کے لیے بیان ان کے اصولوں اور نظریوں کے خلاف دیتے ھیں مگر دیوار پر ان کی تصویر لگا کر رکھتے ھیں جیسے ان کے اصولوں کے پاسبان صرف ھم ھیں
پچھلے سال سے اور نئ حکومت کے بعد قائداعظم کی تصویر کے ساتھ بے نظیر کی تصویر نے جگہ لے لی اور اب بے نظیر کی برسی پہ دس روپے کا سکہ بنایا جا رھا ھے مگر ملک میں کہیں پر نہ قائد اعظم کی سیاست نظر آرھی ھے نہ بے نظیر کی
قائداعظم کی سالگرہ پہ ان کی تقریریں ان کے اقوال دہرائے جانے چاھیے تھے مگر ایسا کچھ نہیں ھورھا
اے قائد ھم شرمندہ ھیں ھم پاکستان کو وہ پاکستان نہیں بنا سکے جس کا خواب سب نے دیکھا تھا جس کے لیے سب نے قربانیاں دیں تھیں ۔ ھم اپنے مقصد کو بھول گئے اپنے اندھیرے دور کرنے کے بجائے ھر چمکتی چیز کو سونا سمجھ کر اس کے پیچھے بھاگنے لگے آج ھماری پہچان ھماری خوداری کہاں کھو گئی ۔ اتنے سال میں ھم ایک قائد پیدا نہ کر سکے اپنے قائد کے رہنما اصولوں کی حفاظت نہ کر سکے اے قائد ھم شرمندہ ھیں

نیرو ظالم تھا


دنیا کی تاریخ میں جب بھی ظالم لوگوں کا ذکر آتا ھے تو نیرو کا ذکر آتا ھے کہ وہ ظالم تھا اس میں اب کتنی حقیقت ھے کتنی کہانی ھے کہتے ھیں جب روم جل رھا تھا تو نیرو چین کی بانسری بجا رھا تھا
یہ پرانی کہانی ھے اب انسان مہذب ھو گیا ھے اب ھر انسان کے لیے قانون ھیں سب کے حقوق ھیں اب کوئ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتا ھم اپنے اردگرد دیکھیں تو ھمیں مہذب لوگ نظر آتے ھیں
سنا تھا قانون اندھا ھوتا ھے وہ کسی ذات برادری کو نہیں دیکھتا پاکستان میں تو اندازہ ھوتا ھے کہ واقعی ھی قانون اندھا ھو چکا ھے
ظالم نیرو جلتے ھوئے لوگوں کو دیکھ کر چین کی بانسری بجاتا تھا آج کا مہذب نیرو عوام کو گرمی میں بنا بجلی کے جلتا ھوا دیکھ کر اپنے اے سی کمرے میں تھری پیس سوٹ پہن کر سکون سے رٹے رٹائے جملے بولتا ھے دل بہلانے والے وعدے کرتا ھے جھوٹی تسلیاں دیتا ھے خوبصورت مستقبل کے سپنے دیکھاتا ھے سپنے دیکھنے اور دیکھانے کے لیے کچھ نہیں کرنا پڑتا مگر سپنوں کو پورا کرنے کے لیے ھمت چاھیے ھوتی ھے جو اب حکمرانوں میں ھے کہاں…
جلتے ھوئے روم کا نظارہ ظالم نیرونے دور پہاڑ سے کیا تھا آج کا نیرو دھماکوں میں جلتے مرتے خودکشی کرتے عوام کو دور سے بھی نہیں دیکھتا خبریں بھی نہیں سنتا کیونکہ اس میں حقیقت سے آنکھیں چار کرنے کی ھمت نہیں ..وہ آرام دہ گھر میں بیٹھ کر غیر ملکی ٹی وی چینلز سے لطف اندوز ھوتا ھے
ظالم نیرو روم کو نئ شکل دینا چاھتا تھا ایک ماڈرن روم دیکھنا چاھتا تھا اپنے خواب کی تعبیر چاھتا تھا آج کے مہذب نیرو کی آنکھوں میں غیر ممالک کے پر فضا مقام پہ محل بنانے کے سپنے ھوتے ھیں
آج کا نیرو خود غرض ھی نہیں بے حس بھی ھے ماضی میں ایک نیرو تھا مگر اب ھماراپالیمنٹ ھاؤس بھرا ھوا ھے جو کسی فرعون کی طرح قانون بناتے ھیں اور خود ھی توڑتے ھیں اور منتخب افراد کو کٹ پتلی کی طرح نچاتے ھیں اور عوام موت کے سائے میں بیٹھی دم بخود پتلی تماشہ دیکھ رھی ھے

انقلاب آئے گا 2008



آجکل کے حالات کی کہانی اگر سب سچ نہیں تو سب جھوٹ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔


وہ ابھی تک گھر نہیں پہنچا تھا . پروین بار بار دروازے کے چکر لگا رھی تھی آجکل کے حالات میں بچے گھر سے باھر جائیں تو ماؤں کے دل کاپتے رھتے ھیں بار بار دعائیں کرتی ھیں ذرا ذرا سے کھٹکے پہ دل ڈھرکنے لگتا ھے جاوید کی وفات کے بعد فراز ھی اس کی امیدوں اور زندگی کا واحد سہارا تھا اس کی سانسوں کی ڈور اس کے ساتھ بندھی ھوئ تھی فراز نے میٹرک میں بورڈ میں ٹاپ کیا وہ اپنے باپ کا خواب پورا کرنا چاھتا تھا جاوید کا خواب تھا کہ ان کا اکلوتا بیٹا ڈاکٹر بنے دنیا میں نام کمائے غریبوں کی مدد کرے ان کی دعائیں لے فراز اپنے دوست احمد کے ساتھ مل کر پڑھائ کرتا تھا دنوں کرکٹ کے دیوانے تھے
حالات جیسے بھی ھوں بچوں کو گھر میں قید کر کے بیٹھایا نہیں جا سکتا آزادی سے گھومنا ان کا حق ھے .
فراز میں کچھ عرصہ سے کچھ تبدیلی آرھی تھی ملکی حالات بدلنے کی بات کرتا تھا مذھب اور سیاست میں دلچسپی لینے لگا تھا پروین خبریں دیکھ رھی تھی لال مسجدکے واقہ پہ ایک رپورٹ دیکھائ جا رھی تھی قبائیلی علاقوں کی خبر تھی پھر آج 8 لوگ مارے گئےفراز میں عجیب سی بےچینی محسوس ھورھی تھی ایک دم غصے سے بولا آخر کب حالات بدلیں گے پروین کو لگا جوانی کا جوش ھے اس عمر میں ا نسان یساا ھو جاتا ھے
جاوید کی روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات بعد زندگی جیسے ایک دم بدل گئ تھی .خدا کا شکر ھے گھر اپنا تھا مگر آمدن کا زریعہ ختم ھوگیا تھا چار کمروں کے گھر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا پیٹ بھرنے کے لیے تھوڑا سا کرایہ ملنے لگا پروین کی سیکھی ھوئ سلائ کام آرھی تھ یاس نے سلائ شروع کر دیا فراز کی پڑھائ کا خرچ بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس نے محلے کی لڑکیوں کوسلائ سیکھانے کا کام شروع کر دی وہ بچت کر رھی تھی جاوید کا خواب پورا کرنا تھا..فراز کا قد اس سے لمبا ھو گیا تھا اسے لگ رھا تھا جیسے غموں کی شام ڈھل رھی ھے
آج فراز سوچوں میں گم تھا پروین نے پیار سے دیکھا بیٹا
امی کیا شہید سیدھے جنت میں جاتے ھیں وہ ھمیشہ زندہ رہتے ھیں
ہاں بیٹا شہادت کی تمنا تو ھر مسلمان کے دل میں ھوتی ھے شہید کا رتبہ بہت بلند ھوتا ھے قرآن میں ھے ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ھیں مگر تم شعور نہیں رکھتے
فراز ھنستے ھوئے کہنے لگا پھر تو میں ھمیشہ آپ کے پاس رھوں گا
پروین نا سمجھی کے عالم میں اسے دیکھنے لگی کیا تم اپنی ماں کو چھوڑ کر کہیں جا سکتے ھو
فراز نے گود میں سر رکھ دیا ماں آپ بھی نہ ….میں تو ھمیشہ آپ پاس رھنے کی بات کر رھا ھوں میں کبھی آپ سے جدا نہیں ھونگا
خدا کبھی جدا نہ کرے اب تو کچھ کھونے کا حوصلہ بھی نہیں پروین نے دل میں سوچا
آجکل فراز کی روٹین چینج ھوتی جارھی تھی وہ کبھی کبھی الجھ جاتی وہ اس کے رویے کو سمجھ نہیں پا رھی تھی فراز جلدی جلدی کھانا کھا رھا تھا
کہیں جانا ھے
جی امی فراز نے جلدی سے نوالہ نگلتے ھوئے کہا
کیا بات ھے کیا کوئ میچ ھے
نہیں امی آج کسی سے ضروری ملنا ھے فراز نے جلدی تسمے باندھتے ھوئے کہا
آرام سے کھانا تو کھا لیتے
بس امی پیٹ بھر گیا…خدا حافظ جلدی سےکہتا ھوا چلا گیا
واپس آیا تو کافی چپ تھا
بیٹا آجکل کن سوچوں میں گم رھتے ھو
کچھ نہیں امی
کیا پڑھائ کے لیے پریشان ھو..کوئ اور مسلہ ھے تو بتاؤ
نہیں امی کوئ ایسی بات نہیں
ٍفراز خاموشی سے لیٹ گیا پروین اپنے بیٹے کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی وہ ماں ھو کر بھی سمجھ نہیں پا رھی تھی
ایک دم فراز اٹھ بیٹھا امی کیا ھزاروں لوگوں کی بہتری کے لیے ایک انسان اپنی جان کی قربانی دے سکتا ھے
ھاں بیٹا جب پاکستان بنا تو ھزاروں لوگوں نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا تھا
فراز ایک بار پھر سوچوں میں گم ھوگیا وہ اس کے چہرے کے اتار چرھاؤ دیکھ رھی تھی
امی
ھوں بیٹا
سسٹم بدلنا ھے اس کے لیے قربانی چاھیے
کونسا سسٹم کونسی قربانی اس نے حیران ھو کر پوچھا
کچھ نہیں امی نیند آرھی ھے اب میں سوؤں گا
فراز کالج سے آکر باھر جانے لگا جاتے جاتے رک گیا چپ کر کے ماں کو دیکھنے لگا پھر ایک دم آکر گلے لگ گیا پروین ھنسنے لگی کیا ھواپیار سے اس کا ماتھا چوما اس نے دیکھا تو فراز کی آنکھون کے گوشے بھیگے ھوئے تھے
کچھ نہیں امی دروازہ بند کرلیں اپنا خیال رکھنا
پروین ھنستے ھوئے سوچنے لگی ابھی بھی بالکل بچہ ھے
وہ گھر کے کاموں میں مصروف تھی گھنٹی بجی دیکھا تو احمد تھا
خالہ جان فراز آجکل کہاں ھوتا ھے .کرکٹ کھیلنے بھی نہیں آتا سب دوست مل کر پڑھتے ھیں مگر فراز نہیں آتا
مگر بیٹا وہ تو روزانہ جاتا ھے میں سمجھی وہ تمہارے ساتھ ھوتا ھے
نہیں خالہ جان آجکل کالج سے بھی کہیں چلاجاتا ھے پتا نہیں کن لوگوں سے ملتا ھے قربانی انقلاب کی باتیں کرتا ھے
ھاں دیکھ تو میں بھی رھی ھوں مگر وہ کھل کے کچھ نہیں بتاتا نجانے کیا سوچتا رھتا ھے
پروین سوچنے لگی آج ضرور پوچھے گی کن لوگوں سے دوستی ھے کہاں جاتا ھے فراز عموماً
9 بجے تک آجاتا تھا پورین جلدی جلدی کھانا لگا رھی تھی خبریں شروع ھو رھی تھی
خاص خاص خبریں ملکی اور بین الاقوام یخبریں ..آج پھر ایک خودکش حملہ 18 لوگ مارے گئے پروین سوچنے لگی نا جانے کون ھیں یہ لوگ ….حملہ آرو کا سر مل گیا اب حملہ آور کا سردیکھا رھے تھے پروین کے ھاتھ سے سالن کا ڈونگہ گر گیا اس کی آنکھیں سکرین پہ خون سے لت پت فراز کے چہرے پہ جمی ھوئیں تھیں اس کے کانوں میں انقلاب شہادت قربانی کی آوازیں گونج رھی تھیں آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رھا تھا وہ دل پہ ھاتھ رکھتی ھوئ ھوش و حواس سے بیگانہ ھو گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

میں ایک عورت ایک ماں


نرس نے ایک ننھا سا وجود میری گود میں ڈالا میں حیرت سے اسے دیکھ رھی تھی وہ میرے وجود کا حصہ تھا میں اٹھارہ برس کی ھوئ تھی کل تک ایک بیٹی تھی ایک لاپروہ سست نکمی کام چور سوتی صورت جس کو ھر روز ایک نیا نام ملتا تھا اپنی ماں کی ایک نکمی بیٹی آج خود ایک بیٹی کی ماں بن گئ تھی میں نے اس ننھے سے وجود کو دیکھا وہ آنکھیں بند کیے دھیرے سے مسکرایا میرے لب اپنے آپ مسکرا دئیے میں نے اس کا گالوں کو چھوا بانھوں میں بھر کر اپنے قریب کیا تو لگا ساری کائنات میری آغوش میں آگئ ھے آج مجھے ایک نیا روپ ملا تھا آج میں بیٹی بہو بیوی کے بعد ایک عظیم رتبہ ملا تھا آج میں ایک ماں تھی
میری امی کہتی تھیں میں مردوں سے شرط لگا کر سوتی ھوں میرے بھائ کا خیال تھا قیامت کے دن جب صور پھونکی جائے گی جو سب سے آخر میں انسان اٹھے گا وہ میں ھونگی اب یہ حال تھا عائشہ رات کو دو بجے دودھ پینے کے لیے اٹھتی تھی اور میں اس سے پہلے جاگی ھوتی تھی اپنی امی کو گھر اگر واش بیکن صاف کرنا پڑ جاتا تو ایسے لگتا جیسے پتا نہیں کتنی گندگی صاف کرنی پڑ رھی ھے ھزار بہانے بناتی اور اب اپنی بیٹی کی نیپی آرام سے صاف کرتی تھی
مجھے اپنے ناخن بہت عزیز تھے کوئ ایسا کام نہیں کرتی تھی جس سے میرے ناخن خراب ھوں اب میں نے خاموشی سے کاٹ دئے تھے نیپی بدلتے ھوئے کہیں اسے لگ نہ جائیں میری نیند اب کہیں کھو گئ تھی وہ سوتی تو جلدی جلدی گھر کے کام کرتی وہ جاگتی تو بس وہ ھوتی اس کی ایک ایک بات مجھے یاد ھے اس کا ھنسنا اس کا رونا ریڑھنا چلنا بولنا پہلی بار ماں کہنا عائشہ کے بعد علی عمر اور پھر فاطمہ اس میں اتنی مصروف ھو گئ کہ میری ذات کہیں کھو گئ
شاپنگ کرنے جاتی جوتے کپڑے پسند کرتی بچوں کو کوئ چیز پسند آجاتی اپنی پسند کی چیز خاموشی سے رکھ دیتی بچوں کی خواہش پورا ھونے پہ جو مسکرائٹ ان کے چہرے پہ آتی اسے دیکھ کر خوش ھو جاتی ان کی خوشی دیکھ کر اپنی تکلیف بھول جاتی اور ان کی تکلیف میں اپنا آرام بھول جاتی ان کی خوشیاں ان کی خوائشیں ان کے خواب ان کی تعلیم ان کا مستقبل زندگی ان کے ساتھ بھاگتے بھاگتے بھاگ رھی تھی اس کا شاید مجھے بھی احساس نہیں ھوا تھا احساس تب ھوا جب عائشہ کا رشتہ آیا کیا وقت اتنا گزر گیا ھے میں نے حیرت سے عائشہ کو دیکھا رشتہ اچھا تھا میرے بھائ کا بیٹا تھا اور عائشہ کی پسند بھی اس کی شادی کے بعد علی کو امریکن یونیورسٹی میں ایڈمیشن مل گیا وہ گیا کچھ عرصے بعد فاطمہ کی شادی ھو گئ عمر کی تعلیم مکلمل ھوئ اس نے پاکستان میں ھی جاب کو ترجیح دی اگر وہ بھی علی کی طرح پاکستان جیسے غریب ملک کو چھوڑ کر جانا چاھتا توھم کیا کر لیتے
اس کی شادی اس کے دوست کی بہن سے ھوئ میری مصروفیات اب صرف بچوں کے فون کا انتظار تھا کب علی فون کرے گا کب عائشہ کا فون آئے گا اکثر میں ھی فون کرتی تھی فاطمہ اسی شہر میں تھی وہ مہینے کے بعد ملنے آتی تھی اس کے سسرال والوں کو اس کا بھاگ بھاگ کر میکے آنا پسند نہیں تھا میں نے اسے منع کر دیے تھے فون کر لیا کرو بد مزگی سے کیا فائدہ بہت بار سوچا اس کے شوہر سے پوچھوں کیا شادی کے بعد بیٹی کا رشتہ اپنے گھر والوں سے ختم ھو جاتا ھے
جو ماں پیدا کرتی ھے پالتی ھے اسے انسان بناتی ھے زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھاتی ھے جنت ماں کے قدموں تلے ھوتی ھے چاھے بیٹا ھو یا بیٹی خدمت دونوں پہ فرض ھے شادی کے بعد بیٹی کی جنت ساس کے قدموں میں نہیں آجاتی ساس کی خدمت بہو پہ فرض ھوتی ھے بیٹی کی ماں بھی تو ساس ھوتی ھے تو کیا داماد اور اس کے گھر والوں پہ اس کا احترام فرض نہیں ھوتا کیا بیٹے کی ماں کا رتبہ بلند ھوتا ھے کیا بیٹی کی ماں بننے سے عورت کی عزت کم ھو جاتی ھے مگر بہت سی باتوں کے ساتھ یہ سب باتیں بھی میرے دل کے قبرستان میں دفن ھو گئیں تھیں
آج عمر نے مجھے کہا یہ علاقہ پرانا ھے یہاں اچھے اسکول نہیں اگر اچھے اسکولوں میں بچوں کو داخل کروائے تو بچوں کا آدھا دن آنے جانے میں ضائع ھو جائے گا اس لیے وہ چاھتا ھے کسی اچھے علاقے میں‌گھر لے لے میں نے اسے کہا وہ جہاں چاھے جا سکتا ھے مگر اس گھر کو چھوڑ کر میں کہاں جاؤں گی یہاں کی ایک ایک اینٹ میں میری یادیں ھیں میری جوانی میری زندگی میرے بچوں کا بچپن ایک ایک لمحہ آنکھیں بند کروں تو ماضی میرے سامنے آجاتا ھے ھم یہیں رھیں گے عمر اپنے نئے گھر میں چلا گیا آج میں بہت عرصے کے بعد آئینہ دیکھا میرے چہرے پہ ابھرنے والی سلوٹوں میں مجھے کئ روپ نظر آئے کئ نام نظر آئے بیٹی بہن بیوی بہو ماں خالہ چاچی تائی ممانی دیورانی جیٹھانی ایک ساس اور ان سب میں کہیں چھپی ھوئ ایک عورت جو اپنے فرض نبھاتے ھوئے کبھی میرے سامنے نہیں آئ تھی میں خود کیا تھی میری ذات کیا تھی میری خواہشیں میرے سپنے میری آزوئیں
ان سب رشتوں کے علاوہ میں کیا تھی میں ایک عورت تھی جو کمزور ھوتے ھوئے ایک نئے وجود کو تخلیق کرتی ھے اپنی خواھشوں کو مارتی ھے اپنے وجود کو بھول جاتی ھے کھڑکی سے برستی ھوئ بارش میں میں نے اپنے خالی گھر کو دیکھا یہ تو قانونِ قدرت ھے انسان دنیا میں اکیلا آیا ھے اس نے اکیلے ھی جانا ھے پرندے جب پرواز سیکھ لیتے ھیں تو کھلا آسمان ان کے سامنے ھوتا ھے انھیں تو اڑنا ھوتا ھے اپنے گھروندے بنانے ھوتے ھیں اپنے آشیانے کی آرزو سب کے دل میں ھوتی ھے میں نے کوئ انوکھا کام نہیں کیا تھا میں نے وھی کیا جو حوا سے لے کر اب تک ھر عورت کرتی آرھی ھے دنیا کی کروڑ ہا عورتوں کی طرح میں بھی ایک عورت ھوں ایک ماں

میرے خواب بکھر گئے 2008


میرے خواب بکھر گئے


میں حیرت سے اپنے گھر میں آئے رشتے داروں کو دیکھ رھی تھی صبح بابا نے کہا تھا اللہ نے مجھے ایک بہن دی ھے میں بہت خوش تھی میں نے اسے دیکھا معصوم سی گڑیا سو رھی تھی میں نے اسے آہستہ سا ھاتھ لگایا تو تھوڑی سی حرکت کی میں دیکھ کر مسکرائ یہ گڑیا ھے مگر ھلتی بھی روتی بھی ھے شام تک میں اپنی دوستوں کے ساتھ کھیلتی رھی بابا پھوپھوکو لے آئے تھے وہ پتا نہیں کیوں بار بار آنکھیں صاف کر رھیں تھیں مجھے بھی دعا کے لیے کہا ماں کے لیے دعا کرو میں کیا دعا کرتی مجھے بہن چاھیے تھی وہ مجھے مل گئ ابا پریشان تھے پھر ساتھ والی خالہ نے مجھے گلے لگا کر رونا شروع کر دیا وہ کیا کہہ رھی تھیں مجھے سمجھ نہیں آرھا تھا وہ کہہ رھی تھیں اللہ کی مرضی اب بچوں کا کیا ھوگا میں اماں کو دیکھ رھی تھی ان کے منہ پہ کسی نے چادر ڈال دی تھی مجھے عجیب لگا میں نے چادر ھٹا دی اماں کہتی تھی منہ پہ چادر لے کر نہ سویا کرو میں نے کہا اماں کو سانس کیسے آئے گا پھوپھو نے روتے ھوئے کہا اب وہ اللہ کے پاس چلی گئیں ھیں ان کو سانس لینے کی ضرورت نہیں میں نے ابا سے کہا بہن اللہ کے پاس سے آئ تو اماں اللہ کے پاس کیوں چلی گئ بہن کو کون سمبھالے گا سب رونے لگے پھر اگلے دن اماں کو قبرستان میں چھوڑ آئے ابا نے مٹی کے ڈھیر کی طرف اشارہ کر کے بتایا یہ اماں کی قبر ھے اب وہ یہی رھیں گی اس مٹی میں اکیلی اندھیرے میں میں بار بار قبر کو دیکھ رھی تھی قبر سے مٹی ھٹا رھی تھی جیسے مٹی ھٹانے سے اماں ھنستی ھوئ نکل آئیں گی
اماں کے بنا گھر عجیب سا لگتا تھا پھوپھو اب ھمارے پاس رھتی تھی ایک بار وہ کسی کو بتا رھی تھیں
اگر یہاں کوئ ھسپتال ھوتا کوئ ڈاکٹر ھوتا تو اماں بچ جاتیں مگر اللہ کی مرضی - میں سوچنے لگی اگر اللہ نے انھیں اپنے پاس بلانا تھا تو ڈاکٹر کیسے ان کو روک سکتا تھا یہ ڈاکٹر کیا ھوتے ھیں بہت نیک انسان یا فرشتے جن کی بات اللہ بھی مانتا ھے میں نے پھوپھو سے پوچھا یہ ڈاکٹر کون ھوتے ھیں کیسے بنتے ھیں تو پھوپھو نے بتایا ڈاکٹر بننے کے لیے بہت پڑھنا پڑتا ھے بہت محنت کرنی پڑتی ھے تو میں نے سوچا میں ڈاکٹر بنوں گی پھر کسی کی ماں چھوٹے بچوں کو چھوڑ کہ اللہ کے پاس نہیں جائے گی
مین نے آج بہت دن کے بعد اپنا بستہ کھولا مجھے پڑھنا اچھا نہیں لگتا تھا اماں ھر وقت مجھے پڑھنے کے لیے کہتی تھی میں نے پڑھنا شروع کیا تو مجھے بہت مشکل لگ رھا تھا مگر آج میں پڑھ رھی تھی مجھے محنت کرنی ھے بہت زیادہ پڑھنا ھےمجھے ڈاکٹر بننا ھے پھوپھو نے چھوٹی کا نام پلوشے رکھا تھا وہ جب بھی روتی تھی لگتا تھا وہ اماں اماں کہہ رھی ھے میں آسمان کی طرف دیکھ کر اماں سے کہتی اماں پلوشے کو دیکھو تمہیں بلارھی ھے کیوں چھوڑ گئ ھمیں واپس آجاؤ مگر کہتے ھیں جو اللہ کے پاس ایک بار چلا جائے وہ واپس نہیں آتا میں نے پھر اماں کی قبر پہ جا کر وعدہ کیا میں ڈاکٹر بنوں گی بہت پڑھوں گی

میں امامہ جو پڑھائ سے بھاگتی تھی اب پڑھنے لگی جو اپنا بستہ چھپا دیا کرتی تھی کہیں اماں مجھے سبق یاد کرنے کا نہ کہہ دیں اب وہی بستہ میری زندگی تھا میں جو استانی کے مارنے سے بھی سبق یاد نہیں کرتی تھی اب کہنے سے پہلے ھی سبق یاد کرنی لگی میں وہی امامہ ھوں جیسے کھیلنا اچھا لگتا تھا پڑھتے ھوئے کبھی بھوک کبھی پیٹ میں درد ھو جاتا تھا اب پڑھتے ھوئے کھانا پینا بھولنے لگی
پھوپھو کہتی تھیں کتنا پڑھو گی میں نے کہا اتنا جتنا ایک ڈاکٹر کو پڑھنا چاھیے ڈاکٹر فرشتے کا دوسرا روپ ھوتے ھیں یہ مجھے ابا نے کہا تھا اور مجھے اب فرشتہ بننا ھے جو لوگوں کو زندگی دیتا ھے

میں نے دینیات کی کتاب میں پڑھا جب رسول ِ کریم کو پہلی وحی ھوئ تو حکم ھوا اقراء یعنی پڑھ - میں سوچنے لگی اللہ نے یہ کیوں نہیں کہا میری عبادت کرو صدقہ دو اور کام کرو صرف پڑھنے کا ھی کیوں کہا کیا پڑھنا اتنا اھم ھے پڑھنے سے انسان اللہ کو پہچان سکتا ھے اس کے قریب ھو سکتا ھے میں پہلے ھی اپنی پڑھائ پہ توجہ دیتی تھی اب پڑھائ میری زندگی بن گئ تھی قرآن کے بعد میں اپنی کتابوں کو عزت دینے لگی یہی وہ کتابیں تھی جن کو پڑھ کر انسان عالم بنتا ھے دنیا کو جانتا تھا اس کائنات کو سمجھتا ھے

پلوشے نے ایک بار مجھ سے پوچھا ماں کیسی ھوتی ھے میں نے کہا پھوپھو جیسی ھوتی ھے وہ بھی اماں کی طرح ھمارا خیال رکھتی ھیں وہ بھی ھم سے پیار کرتی ھیں اس نے مجھ سے پوچھا اماں تمہں کتنا پیار کرتی تھی تو میری آنکھوں میں آنسو آنے لگے مگر میں پلوشے کے سامنے نہیں روتی تھی
میں نے اسے اپنے گلے سے لگا لیا آہستہ سے کہا اماں مجھ سے اتنا پیار کرتی تھی جتنا میں تم سے پیار کرتی ھوں میں نے ایک بار پھر عہد کیا میں ڈاکٹر بنوں گی میں نے ابا سے کہا ابا میں ڈاکٹو بنوں گی ابا نے کہا یہاں کوئ اپنی بیٹیوں کو اتنا نہیں پڑھاتا میں نے مضبوط لہجے میں کہا نہیں بابا میں نے ڈاکٹر بننا ھے پھر کوئ پلوشے کسی سے یہ نہیں پوچھے گی کہ ماں کسی ھوتی ھے اب کسی کی ماں بے موت نہیں مرے گی بابا کی آنکھوں میں آنسو آگئے انھوں نے خاموشی سے میرے سر پہ ھاتھ رکھا اور بنا کچھ کہے چلے گئے میں اب میٹرک میں تھی میرے رشتے آرھے تھے مگر ابا ٹال رھے تھے میں جانتی تھی ابا مجھے پڑھانا چاھتے ھیں مگر برادری کے سامنے کچھ نہیں کہتے میں نے آٹھویں کے بورڈ کے امتحان میں ٹاپ کیا تھا ابا نے مجھ سے کہا تھا اگر میں نے میٹرک میں بھی ٹاپ کیا تو مجھے کالج میں داخلہ دلادیں گے چاھے خاندان والے کچھ بھی کہتے رھیں

عید آنے والی تھی ھم شہر خریداری کرنے گئے پھوپھو اور پلوشے کپڑے دیکھ رھی تھیں میرا سارا دھیان پیچھلی طرف کتابوں والی دکان پہ تھا ابا نے کہا تم کیوں کوئ کپڑے نہیں دیکھ رھی میں نے آہستہ سے کہا ابا مجھے کتابیں لے دو کپڑے تو میرے پاس پہلے بھی بہت ھیں اتنی کتابیں ھمارے گاؤں کی کسی دکان پہ نہیں ابا ھنس پڑے پگلی کتابیں بھی لے دیتا ھوں پہلے عید کے لیے کپڑے لے لو میں نے جلدی سے ایک سو ٹ پسند کیا اور کتابوں والی دکان پہ بھاگ گئ وھاں اخبار کے پہلے صفحے پہ خبر تھی طالبان نے لڑکیوں کے ایک اور اسکول کو جلا دیا میں پڑھ کر پریشان ھو گئ یہ کون سا اسلام ھے اسلام میں تو پڑھنے کا حکم ھے وہ عورت ھو یا مرد اسکولوں کے بنانے پہ کتنا پیسہ لگتا ھے کتنے اسکول جل رھے ھیں آخر یہ سب کیوں ھو رھا ھے یہ سب کون کر رھا ھے اسلام تو چودہ سو سال سے ھے یہ کونسا نیا اسلام ھے جو تعلیم کو گناہ سجھتا ھے حضرت عائشہ تو سب کو درس دیا کرتی تھیں رسول ِ کریم کی زندگی میں ھی عورتیں جنگ میں حصہ بھی لیتی تھیں تلوار بازی گھڑسواری وہ گھر میں بند ھو کر نہیں سیکھتی تھیں میدان ِ جنگ میں مردوں کی مرھم پٹی کرتی تھیں جو ان کے لیے بالکل نا محرم ھوتے تھے ان کو پانی پلاتی تھیں گھر میں قید نہیں کی جاتی تھیں اب ایسا کیوں کیا جا رھا ھے میرے دل میں ھزار سوال تھے مگر جواب کسی کے پاس نہیں تھا

ایک دن مغرب کے وقت ھم نماز پڑھ کے فارغ ھوئے میں اور پھوپھو کچن رات کا کھانا بنا رھے تھے پلوشے کھیل رھی تھی ایک زور دار دھماکہ ھوا ھم سب خوف ذدہ ھو گئے میں پھوپھو کے گلے لگ گئ اور پلوشے میری ٹانگوں کے ساتھ چپک گئ اتنا زوردار دھماکہ پھوپھو زیرِلب دعائیں دھرانے لگی گلی میں شور تھا لوگ بھاگ رھے تھے سب مرد دیکھنے جا رھے تھے دھماکہ کہاں ھوا ھے پھر کسی نے بھاگتے ھوئے کہا لڑکیوں کے اسکول کو کسی نے دھماکے سے اڑا دیا پھر مجھے ھوش نہیں رھا مجھے یاد ھے میں بھاگ رھی تھی میرے سر پہ ڈوپٹہ تھا یا نہیں مجھے ھوش نہیں میں نے اسکول کی جگہ ملبے کا ڈھیر دیکھا دھواں‌اٹھ رھا تھا اینٹیں پتھر بکھرے ھوئے تھے ایسے لگ رھا تھا میرے خواَب بکھرے ھوئے ھیں اسکول نہیں جل رھا پورے گاؤں کا مستقبل جل رھا ھے میں دیوانہ وار رو رھی تھی اتنا تو اماں کے مرنے پہ نہیں روئ تھی آج لگ رھا تھا جیسے میری نہیں مجھ جیسی بہت سی لڑکیوں کی مائیں بنا علاج کے مر گئیں ھیں ابا نے میرا ھاتھ کھینچا تم یہاں کیا کر رھی ھو یہاں سب مرد ھیں گھر جاؤ میں ان کے گلے لگ گئ میں نے روتے ھوئے ان سے کہا
بابا اب گاؤں‌ کوئ ہسپتال نہیں بنے گا کوئ ڈاکٹر نہیں بن سکے گا اب کئ امامہ رات کو اٹھ کے اپنی ماؤں کو یاد کیا کریں گی کئ پلوشے لوگوں سے پوچھا کریں گی ماں کیسی ھوتی ھیں دنیا میں ھم دھشت گرد کے نام سے جانے جائیں گے لوگ ھمیں انتہا پسند کہیں گے جو اپنی عورتوں کو کسی پرندے کی طرح پنجرے میں قید کر کے رکھتے ھیں اب عیسائ فخر سے بیان دیں گے اسلام مساوات کا مذھب نہیں اسلام امن کا درس نہیں دیتا زبردستی کا درس دیا ھے اب بہت سے وہ لوگ جو اسلام کے قریب آرھے تھے اسلام سے دور ھو جائیں گے نفرت کرنے لگیں گے بہت سے لوگ اپنا پیسہ غیر ممالک میں ٹرانسفر کر دیں گے کہ یہاں امن ممکن نہیں
میرے ھونٹوں پہ بہت سے سوال تھے مگر جواب کون دیتا سب میری طرح بے بس تھے میرے سامنے میرے خواب جل رھے تھے اور میں انھیں جلتا ھوا دیکھ رھی تھی آپ میری جگہ ھوتے تو کیا کرتے ؟؟

کتنے ھیرے پتھر ھوئے


کتنے ھیرے پتھر ھوئے

دنیا میں کروڑوں انسان ھیں اور ھر انسان کی ایک الگ کہانی ھے مگر بہت سی کہانیاں ایک دوسرے سے بہت ملتی جلتی ھوتیں ھیں اس کہانی سےبھی پاکستان کے لوگوںکی بہت سی کہانیاں ملتی ھونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!!!!

سبحان اپنے نام کی طرح تعریف کے قابل تھا اپنے ھوں یا غیر سب اس کی تعریف کرتے تھے .اسکول میں نمبر ون تھا کالج اور یونیورسٹی میں نصابی اور غیر نصابی پروگرام میں سبحان کا نام سب سے پہلے آتا تھا تقریر کرتا تو لوگ دم سادھے سنتے تھے ایسا شعلہ بیان تھا عالِم اسلام اور تحریک ِ پاکیستان پر بولتا ایسے ایسے دلائل دیتا کہ ایمان تازہ ھو جاتا لوگ بے اختیار رو دیتے …یونیورسٹی سے فارغ ھوا تو لوگوں نے کہا پاکستان میں کوئ مستقبل نہیں ترقی کے چانس بہت کم ھیں مگر پاکستان اور اسلام کی محبت اس کے خون میں ڈور رھی تھی ا س نے پاکستان میں رھنے کا فیصلہ کیا وہ گورنمنٹ جاب کے ساتھ ساتھ کالم لکھتا تھا جو بھی لکھتا تھا بے ڈھرک ھو کر لکھتا تھا احمد صاحب کبھی کبھی اسے ٹوکتے تھے مگر وہ کہتا تھا
ابو دنیا میں مسلمانوں پہ ظلم ھو یا عوام کے ساتھ کوئ زیادتی ھو میں کیسے آنکھیں بند کر سکتا ھوں لوگ بھوکوں مر رھے ھوں میں کیسے اپنی دنیا میں مست رہ سکتا ھوں میں ظالم کا ھاتھ نہیں روک سکتا مگر کمزور لوگوں کی زبان تو بن سکتا ھوں جو دیکھتا ھوں جو محسوس کرتا ھوں وھی لکھتا ھوں اپنے قلم اور اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرسکتا
زبیدہ بیگم سبحان کے لیے رشتہ دیکھ رھی تھی انھیں اپنی دوست کی بیٹی سلمیٰ پسند تھی جیسی وہ بہو چاھتی تھی سلمیٰ میں وہ سب خوبیاں تھیں احمد صاحب سے مشورہ کیا تو انھوں نے کہا سبحان سےاس کی پسند پوچھ لو .
سبحان سلمیٰ سے تم ملے ھوئے ھو کیسی لگتی ھے تمیں
سبحان نے کھانا کھاتے ھوئے حیرت سے انھیں دیکھا
جی امی ملا ھوا ھوں اچھی ھے بہت سلجھی ھوئ
ھوں
ھم اس کی بات کرنے کا سوچ رھے ھیں
اگر تمہاری کوئ پسند ھے تو بتا دو
نہیں امی یہ کام آپ پہ چھوڑا ھے جو آپ مناسب سمجھیں
سبحان سے بات کرنے کے بعد سلمیٰ کے گھر رشتے کی بات کی انکار کی گنجایش نہیں تھی دونوں خاندان ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے عید کے بعد شادی کی تاریخ طے ھو گئ دونوں گھروں میں شادی کی تیاریاں شروع ھو گئ
11 ستمبر کے واقعے کے بعد پوری دنیا کے حالات تیزی سے بدلے ھزاروں لوگ امریکہ سے واپس آئے پاکستان کی پالیسی چینج ھوئ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان ھوا ..ایسے میں سبحان کا قلم کیسے چپ رہ سکتے تھا اس کے مصروفیات بڑھ گئیں
سبحان بیٹے اپنی مصروفیات اب کچھ کم کرو شادی سر پہ آگئ ھے مہمان آنے شروع ھو گئے ھیں
جی ابو کچھ کام ھیں ان سے فارغ ھو جاؤں
صبح سے سبحان گھر تھا آج کی مہندی رسم تھی زبیدہ بیگم اور احمد صاحب کے چہرے خوشی سے دمک رھے تھے گھر مہمانوں سے بھرا ھوا تھا شادی کے گانے گائے جا رھے تھے
شادی کی صبح نوکر نے بتایا کچھ لوگ آئے ھیں سبحان کا پوچھ رھے ھیں پھر پتا چلا وہ ان لوگوں کے ساتھ چلا گیا ھے
کون لوگ تھے آپ نے جانے کیوں دیا
بیگم وہ کوئ بچہ نہیں ھے ابھی آجائے گا
کوئ ضروری کام ھوگا ورنہ وہ ایسے ھی کیسی کے ساتھ نہیں جاتا
صبح سے دوپہر اور دوپہر سےشام ھوگئ
سبحان کے سب دوستوں کے گھر فون کیا سب نے بے خبری کا اظہار کیا سب رشتے دار پریشان تھے سمجھ نہیں آرھی تھی کیا کریں سبحان کی عادت تھی وہ کہیں بھی جاتا تھا تو فون ضرور کرتا تھا اگر زیادہ کام ھوتا تھا تو فون کر کے بتا دیتا تھا کے لیٹ آئے گا آج تو شادی کا دن تھا اتنا لاپرواہ تو وہ کبھی بھی نہیں تھا برات جانے کا وقت ھو رھا تھا سلمیٰ کے گھر فون کر دیا سلمیٰ کے رشتےدار ھزار سوال پوچھ رھے تھے لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رھے تھے
کیا سبحان شادی سے خوش نہیں تھا
کیا وہ کیسی اور کو پسند کرتا تھا
شادی کے دن گھر کیوں چھوڑ گیا
احمد صاحب اور زبیدہ بیگم پہلے ھی پریشان تھے لوگوں کی باتیں انھیں اور پریشان کر رھی تھیں سب ددست واقفکار بھاگ دوڑ کر رھے تھے سبحان کی تصریر لے کر ھسپتال بھی گئے دل پہ پتھر رکھ کر مردہ خانے بھی گئے لاوارث لاشیں بھی دیکھیںپولیس میں بھی رپورٹ
کی
وہ رات جیسے سب نے جاگ کر گزاری یہ وہی جانتے ھیں سب فون کے گرد بیٹھے تھے . فون کی ھر بیل پہ ایسے جیسے سب میں جان پڑ جاتی تھی امید کے دیئے جلنے لگتے تھے شاید سبحان کا فون ھو اس کے بارے میں کوئ خبر ھو بار بار سملیٰ کے گھر سے فون آرھے تھے وہ سبحان کا پوچھ رھے تھے سلمیٰ کے ھاتھوں میں مہندی مہک رھی تھی وہ دلہن بنی سب رشتےداروں کے درمیان بیٹھی برات کے آنے کا انتظار کر رھی تھی لوگ برات کے نا آنے کے بارے میں بار بار پوچھ رھے تھے ان کی باتیں اسے اور پریشان کر رھی تھیں شادی ھال خالی کر کے دینا تھا آدھی رات کو وہ سب گھر واپس آئے سلمیٰ نے سادے کپڑے پہن لیے اس کا دل کانپ رھا تھا سمجھ نہیں پا رھی تھی وہ کیا کرے پھر رشتےداروں کی سوال کرتی نظریں …دل چاہ رھا تھا دنیا کے کسی ایسے کونے میں چھپ جائے جہاں اسے کوئ نا دیکھ سکے وہ خیالوں ھی خیالوں میں سبحان سے شکوے کر رھی تھی ساری رات آنکھوں میں کٹی کان کسی خبر کے منتظر رھے ولیمے کا دن گزرا لگ رھا تھا سبحان کو زمین نگل گئ یا ھوا لے اڑی سب دوست واقفکار انجان تھے سب رشتے دار اپنےاپنے گھروں کو چلے گئے وقت کیسا بھی گزرتا جاتا ھے دن پہ دن گزرتے جا رھے تھے عید الضحیٰ آئ اور گزر گئ لگتا تھا عید پہ بکرے قربان نہیں ھوئے جذبے ارمان امیدیں بھی قربان ھو گئ ھیں . نیا سال آیا تو سب کے لبوں پہ ایک ھی دعا تھی سبحان واپس آجائے سلمیٰ نا کنواریوں میں تھی نا بیواؤں میں .. احمد صاحب اور زبیدہ کا برا حال تھا جس دن ان کے کے بیٹے کا گھر بسنا تھا اسی دن سے ان کے گھر میں اداسیوں نے بسیرا کر لیا تھا ھر سورج اس امید سے ابھرتا کے شاید آج سبحآں آجائے رات سوتے جاگتے گزرتی ایسے لگتا جیسے سبحان بلا رھا ھے آواز دے رھا ھےوہ ماں تھیں تڑپ کے اٹھ بیٹھتی مرے ھوئے انسان کو انسان چار دن روتا ھے پھر کوئ کتنا بھی عزیز ھو دھیرے دھیرے جینا سیکھ لیتا ھے مگر سبحان اس کا تو معاملہ ھی اور تھا دل مردہ سمجھنے کو تیار نہیں تھا اگر زندہ ھے تو کہاں ھے زندگی اور موت کے درمیان لٹکنا کیا ھوتا ھے کتنا اذیت ناک ھوتا ھے یہ وہھی جان سکتا ھے جس پہ بیت رھی ھو پولیس کہتی تھی تلاش جاری ھے اخبار میں تصویر دی ھزار بار اشتہار دیا حکومت کے سامنے اجتجاج کیا مگر کوئ فائدہ نہیں ھوا دن مہینوں میں بدلے مہینے سالوں میں ….
سلمیٰ کے گھر والے اس کی شادی کرنا چاھتے تھے مگر اس کا نکاح مہندی کی رات ھو چکا تھا وہ سبحان کا انتظار کر رھی تھی لوگوں کے سوالوں سے بچنے کے لیے اس نے خاموشی سے ایک اسکول مین جاب کر لی زندگی جیسے رک سی گئ تھی ایک ھی موسم رک گیا تھا انتظار کا موسم …..ھر پل ھر لمھہ انتظار جب عید آتی یا کسی کی شادی ھوتی سب زخم نئے سرے سے تازہ ھو جاتے یہ تو زخم بھی ایسا تھا کوئ بھرنا بھی چاھتا تو نہیں بھر سکتے تھا خوشیوں کے پل ھنستے مسکراتے کیسے گزر جاتے ھیں پتا بھی نہیں چلتا مگر دکھ وہ تو روح میں بسیرا کر لیتا ھے مرتے دم تک انسان کے ساتھ رھتا ھے احمد صاحب اور زبیدہ بیگم کو اپنے بیٹے کے انتظار نے زندہ رکھا ھوا تھا وقت سرکتا جا رھا تھا پھر گمشدہ افراد کے کیس کھولنے لگے تحقیقات شروع ھوئ..بہت سے لوگون خبر ملی پھر ایک دن کچھ نامعلوم لوگ جیپ پہ آئے اور دروازے کے سامنے سبحان کو خاموشی سے چھوڑ گئے جس حالت میں سبحان واپس آیا تھا اسے دیکھ کر گھر والے جیتے جی مر گئے وہ ایک زندہ لاش تھا جو کسی بھی موضوع پہ گھنٹوں بول سکتا تھا اب اٹک اٹک کے چند الفاظ بولتا تھا ماضی کو بھول چکا تھا اسے کس بات کی سزا ملی تھی محب الوطن پاکستانی ھونے کی سزا یا سچا مسلمان ھونے کی سزا یا سچ لکھنے کی سزا ..اس کی زندگی کیا زندگی تھی سبحان تو واپس آگیا تھا مگر بہت سے لوگوں کا کچھ پتا نہیں مگر ملک میں بھت سی بے نام قبروں کا اضافہ ھو چکا تھا ان بے نام قبروں میں کن کے جگر کے ٹکڑے تھے کتنے انمول ھیرے دفن تھے کسے خبر …یہ بے نام قبریں کشمیر فلسطین آزربائجان بوسنیا میں پھیلی ھوئ ھیں ان میں ایسے ھیرے دفن ھیں جن کی قدر ان کے اپنے ملک والے نہ پہچان سکے مگر دشمن کی آنکھ پہچان گئ کے یہی ھی وہ لوگ جن میں سچ کہنے کی طاقت ھے دشمن سے ٹکرانے کا حوصلہ ھے ان کو خاموشی سے ختم کر دیا گیا جن قوموں کے لوگ ضمیر فروش ھوتے ھیں ان کے ھیرے بھی پتھر بنا دیئے جاتے ھیں ..بے ضمیر قرموں کا کوئ ھنستا ھوا ماضی نہیں ھوتا حال میں دردبھری آہیں اور فریادیں گھونجتی ھیں اور مستقبل ھوتا ھے کسی بے نام قبر کی طرح خاموش اور اندھیروں میں ڈوبا ھوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!!!

زندگی میں اپنا بھی نام ھونا چاھیے


زندگی میں اپنا بھی نام ھونا چاھیے
لوگوں میں کچھ تو مقام ھونا چاھیے

نام نہیں تو تھوڑا سا بدنام ھونا چاھیے
ھم پہ شرافت کا الزام ھونا چاھیے

خاموش نظروں کا سلام ھونا چاھیے
چاندنی میں چمکتا دروبام ھونا چاھیے

محبت کا پیغام دنیا میں عام ھونا چاھیے
اچھائ کو چھپنا نہیں سر عام ھونا چاھیے

سعدیہ زندگی کا اچھا سا انجام ھونا چاھیے
برے نہیں ھمیں بھی الہام ھونا چاھیے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

محبتوں کے صلے میں جزا دیجیئے مجھے


محبتوں کے صلے میں جزا دیجیئے مجھے
بدلے میری وفاؤں کے وفا دیجیئے مجھے

میرے ساتھ میری سانسیں بھی قید ھیں
جینے کیلیے تھوڑی سی ھوا دیجیئے مجھے


خوش رھیے آپ کوئ گلہ ھم نہیں کرتے
زندگی کی نہیں تو مرنے کی دعا دیجیئے مجھے


ھاںمانتی ھوں میں- میں نے پیار ھے کیا
پیار ھے جو جرم دیوار میں چنوا دیجیئے مجھے

کیا کبھی کسی انسان نے پیار نہیں کیا
جو کی ھے کوئ خطا سزا دیجیئے مجھے

سعدی محبت تو جینے کی حقدار ھی نہیں
چلیئے زھر کا پیالہ پلا دیجیئے مجھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

ترکِ تعلق سہی غیروں سی گفتگو رھنے دو


ترکِ تعلق سہی غیروں سی گفتگو رھنے دو
گلستان لے جاؤ تھوڑی سی خوشبو رھنے دو

تیرے پاس تیرےاپنے تیرے چاھنے والے بہت
ھم غیر سہی ھمیں اپنا عدو رھنے دو

تو نہیں تو تیری یادیں ھمارے ساتھ ھیں
تم اپنا ذکر ھمارے چار سو رھنے دو

زخمِ دل تازہ رھے نا بھرے تو اچھا ھے
ھماری ھتھلی پہ ارمانوں کا لہو رھنے دو

کبھی ملنا کبھی بچھڑ جانا غیر بن کے
کچھ پانے کچھ کھونے کی یہ جستجو رھنے دو

نہ جگاؤ ھمیں ابھی اس خوابِ حسیں سے
کچھ پل اور ھمیں ان کے روبرو رھنے دو

سعدی دنیا کیا ھے ھمیں اس سے کیا لینا دینا
کون برا کون بھلا ھمیں بس با وضو رھنے دو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ سعدیہ سحر

میں اک پل


میں اک پل
اک لمھہ اک خیال ھوں
کہیں حقیقت کہیں مایا جال ھوں
کہیں اگہی کی کتاب ھوں
کہیں لیوا عذاب ھوں
کہیں لمحوں میں بھی ھوں زندہ
کہیں نظروں کا سراب ھوں
میں حسن ھوں
میں عشق ھوں
کہیں محبتوں کا روگ ھوں
کہیں چاھتوں کا سوگ ھوں
میں پل بھر کا کھیل ھوں
کہیں دلوں کا میل ھوں
کہیں آنسوؤں کا ھوں ریلہ
کہیں خوشیوں کا ھوں میلہ
محبتوں میں لازوال ھوں
چاھتوں کا کمال ھوں
میں زندگی
میں روشنی
میں سویرا میں اندھیرا
کہیں یادوں کا ھوں بسیرا
پاس ھوں تو دوست ھوں
روٹھ جاؤں تو موت ھوں
میں زندگی
میں ایک لمحہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ سعدیہ سحر

کاروباریِ زندگی میں مکمل گھاٹا ھے



کاروباریِ زندگی میں مکمل گھاٹا ھے
سمبھالا جاتا نہیں تم سے فاٹا ھے

روٹی کپڑا مکان کے نعرے چھوڑوں
عوام پوچھتی ھے کہاں آٹا ھے

برداشت رواداری ھے کہاں
سرِعام اب تو چلتا باٹا ھے

لیڈر ھو تو پھر لیڈر بنو
ورنہ عوام تمہیں کرتی ٹاٹا ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔2008 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

بیتے موسم لوٹ آ تے ھیں اعتبار کرنا


بیتے موسم لوٹ آ تے ھیں اعتبار کرنا
خزاں کے بعد بہار آئیگی انتظار کرنا

دلوں میں حائل کہیں زمانہ نہ ھو جائے
دنیا کو آتا ھے رشتوں میں دیوار کرنا

لفظوں سے بہت گہرے زخم ملے ھیں
سیکھ لیا اپنوں نے لہجے کو تلوار کرنا

دنیا کے ستم کی ھمیں پرواہ نہیں ھے
دنیا جو بھی کرے تم نہ میرے یار کرنا

دکھوں کو رونے سے کچھ نہیں ھوتا
خوشیاں جو ملی ہیں ان کو شمار کرنا

مروت نہیں سعدی فطرت ھے ھماری
ملے جو نفرت بدلے میں پیار کرنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

اے ساحل کی ھوا


اے ساحل کی ھوا
یہ تو ھی بتا
تونے کتنے لوگوں کو منزل پہ پہنچتے دیکھا ھے
کتنے سفینوں کو سا حل پہ ڈوبتے دیکھا ھے
کتنے دلوں کو کھلتے دیکھا ھے
کئ پیار کرنے والوں کو ملتے دیکھا ھے
کتنے گھروندں کو کتنے خوابوں کے محلوں کو
سمندر کی لہروں میں بکھرتے دیکھا ھے
ھجر کی آگ میں لوگوں کو جلتے دیکھا ھے
وصل کے لمحوں میں دلوں کو پگھلتے دیکھا ھے
چاندنی راتوں میں جذبوں کو سسکتے دیکھا ھے
لہروں میں آنسوؤں کو گرتے دیکھا ھے
کتنے لوگوں کو بے موت مرتے دیکھا ھے
حوصلوں کو ٹوٹ کے سمبھلتے دیکھا ھے
کئ آرزؤں کو مچلتے دیکھا ھے
میں نے تو فقط ایک دل کو ٹوٹتے دیکھا تھا
اس دن سے میرے لبوں سے ھنسی روٹھ گئ ھے
نمی میری آنکھوں میں ٹھر گئ ھے
خوشی میرے دل کا رستہ بھول گئ ھے
تو انتا کچھ دیکھنے کے باوجود
اتنی خوش کیسے ھے
اتنی شوخ و چنچل کیسے ھے
کبھی کسی زلف کے ساتھ اٹھکیلیاں کرتی ھے
کبھی کیسی آنچل کے ساتھ مل کر لہراتی ھے
کبھی لہروں کے ساتھ مل کر ھنستی گاتی ھے
اتنے رازوں کو دل میں چھپائے ھوئے
تو مسکراتی کیسے ھے
اے ساحل کی ھوا کچھ تو ھی بتا
اے ساحل کی ھوا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

ھواؤں سے پوچھتی ھوں میں احوال اسی کا


اپنی ایک اور تحریر آپ سب کی نذر

ھواؤں سے پوچھتی ھوں میں احوال اسی کا
بے خیالی میں بھی رھتا ھے خیال اسی کا

شام و سحر ھو یا زندگی کا کوئ پہر
ھر لمحہ اسی کا ھے ھر سال اسی کا

چاند میں نظر آتا ھے ستارے میں وھی وہ
آنکھوں پہ چھایا رھتا ھے جمال اسی کا

زندگی میں خوشیوں کی برسات ھوئ ھے
مگر دل پہ چھایا رھتا ھے ملال اسی کا

کچھ سوچوں تو سوچوں میں کیسے
سوچوں پہ پھیلا رھتا ھے جال اسی کا

دنیا کو پانے کی تمنا دل میں نہیں ھے
ھر سجدے میں آتا ھے سوال اسی کا
…………………………………………سعدیہ سحر

لاعلاج


محبتیں صرف دل میں نہیں بستیں بلکہ روح کا حصہ بن جاتی ھیں جن کو بھلانا بہت مشکل ھوتا ھے جب تک سانس چلتی ھے وہ ساتھ رھتیں ھیں

تجھے بھلانا جو چاھا

تو مجھے احساس ھوا

کہ تیری محبت کا زھر

میرے وجود میں

کینسر کی طرح

پھیل چکا ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

آؤ ایسی دنیا بنا ئیں ھم



ایسی دنیا کی آرزو ہےاسےمیرا سپنا سمجھ لیں یا میری سوچ)

آؤ ایسی دنیا بنا ئیں ھم
جہاں ھر طرف ایمان کی فضا چھائ ھو
جہاں ھر طرف خدا کی خدائ ھو
جہاں دولت والوں کو نہ سجدے ہوں
جہاں طاقت والوں کے نہ دنیا پہ قبضے ہوں
جہاں انسانیت کا بول بالا ھو
سیاہ و سفید ایسے جیسے مالا ہو
آؤ ایسی دنیا بنا ئیں ھم
جہاں زمین نہیں جذبوں کی قیمت ہو
جو انسان کے لیے سکوں کی جنت ہو
جہاں ضمیر نہ بکتا ہو بازاروں میں
جہاں کوئ نہ ھو ملک کے غداروں میں
جہاں تہمت نہ لگے وفاداروں میں
آؤ ایسی دنیا بنا ئیں ھم
جہاں سب محبت کا دم بھرتے ہوں
جہاں محبت پہ اک دوسرے پہ مرتے ہوں
جہاں لوگ نہیں انسان بستے ہوں
آؤ ایسی دنیا بنا ئیں ھم
جہاں خون بارود سے نہ سستا ہو
جہاں بےبس خاک میں نہ رولتا ہو
جہاں ایمان پیسوں میں نہ بکتا ہو
آؤ ایسی دنیا بنا ئیں ھم
جہاں بھوک کے نہ فاقے ہوں
جہاں سرحدوں نے دل نہ کاٹے ہوں
جہاں بے گناہوں کے نہ خون بہتے ہوں
جہاں کمزور ظلم نہ سہتے ہوں
آؤ ایسی دنیا بنا ئیں ھم
جہاں خوشیوں ہر سو پہرا ہو
جہاں آ سودہ ہر چہرہ ہو
جہاں دلوں کا تعلق گہرا ہو
جہاں زمین کا رنگ سہنرا ہو
جہاں خدا اپنے بندوں سے راضی ہو
جہاں خوشیوں بھرا ماضی ہو
آؤ ایسی جنت بنائیں ھم
آؤ ایسی دنیا بسائیں ھم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

کیا رشتہ ھے تیرا میرا


کیا رشتہ ھے تیرا میرا
اک بے نام رشتہ
ان دیکھی ڈور میں بندھا ھوا
ایک اٹوٹ بندھن
جو ٹوٹتا نہیں
جس کی دوری میں بھی
کوئ فاصلہ نہیں
کیا رشتہ ھے تیرا میرا
وھی جو دل کا ڈھرکن سے
روح کا جسم سے
پھول کا خوشبو سے
چاند کا چاندنی سے
بادل کا بارش سے
سانسوں کا زندگی سے
لہروں کا ساحل سے
سیپ کا موتی سے
دن کا روشنی سے
موت کا زندگی سے
ایک اٹوٹ رشتہ
کیا ھے تیرا میرا رشتہ
ایک بے نام سا رشتہ
ایک بے نام سا انجانہ
ھاں ایسا ھی ھے تیرا میرا رشتہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ سعدیہ سحر

ابھی دیر نہیں ھوئی


ابھی دیر نہیں ھوئی
ابھی سانسیں چل رھی ھیں
ابھی جسم میں جان باقی ھے
منزلیں اپنی جگہ ھیں
ھمیں اپنے راستے چننے ھیں
جو ھمیں منزل تک لے جائیں
کبھی بھی کوئ غلط راستہ منزل تک نہیں
غلط سمت چلنے سے پاؤں زخمی ھو سکتے ھیں
منزل نہیں پا سکتے
سوچو
سمجھو
اور دیکھو
ھماری منزل کیا ھے
ھمارا راستہ کیا ھے
ھمارا کوئ رہبر کوئ رہنما نہیں
ھمیں خود اپنا رہنما بننا ھے
سہاروں کی تلاش چھوڑو
اس سے پہلے کہ زندگی کا چاند ڈوب جائے
آنکھوں میں جلتے دیپ بجھ جائیں
لوگ امید کا ساتھ چھوڑ دیں
ھوش میں آؤ
نیند سے جاگو
غفلت کی نیند بھی ایک موت ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

امن کی فاختہ مر چکی ھے


کتنے ھی لوگ اٹھے
ھاتھوں میں ھتھیار لیے
امن کے خواہاں
لاکھوں کی فوج لیے
ملک ملک
قریہ قریہ
کبھی فضا
کبھی زمیں ہلا دی
کتنے لوگ مرے
کتنے گھر ویران ھوئے
کتنے سپنے ٹوٹے
امن کی تلاش میں بھٹکنے والے
بندوق کے زور پہ امن کرنے والے
ھر دور مین ناکام ھوئے ھیں
بارود کے ڈھیر پہ
لوگ سکون کی نیند نہیں سوتے
جو اب یہ کہتے ھیں
دنیا مین امن کیوں نہیں ھوتا
کوئ جا کر ان سے کہہ دے
تمہاری تلاش فضول ھے
تمہاری محنتیں رائیگاں جائیں گی
امن کی فاختہ اب کبھی نہیں آئے گی
کیونکہ
امن کی فاختہ تو
راکٹوں کے شور سے
نے گناہ لوگوں کی چیخوں سے ڈر کر
مر چکی ھے

----------2009---------- سعدیہ سحر

خدا سے تیری زندگی مانگی ھے


خدا سے تیری زندگی مانگی ھے
اپنی نہیں تیری ھر خوشی مانگی ھے

پی کر اپنے آنسوؤں کا زھر
تیرے لبوں کی ھنسی مانگی ھے

رات کے خاموش سناٹوں میں
تیرے لیے روشنی مانگی ھے

اداس اور بے کیف لمحوں میں
تیری زندگی کی دلکشی مانگی ھے

تو دل میں رھے ڈھرکن کی طرح
ایسی الفت ایسی دلبری مانگی ھے

تیرے میرے ساتھ نہ چھوٹے کبھی
سعدی اک اور زندگی مانگی ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔2008۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

لیڈر جِسے سمجھے وہ لوٹا نکلا


یہ شعر میں نے مشرف کے دور میں لکھے تھے حکومت بدل گئ مگر ایک چیز جو ابھی بھی پارلیمنٹ نظر آتی ھے وہ ھے لوٹے ۔۔۔۔حکومت کوئ بھی ھو آمریت یا جمہوریت لوٹے اپنی جگہ بنا لیتے ھیں

لیڈر جِسے سمجھے وہ لوٹا نکلا
کھراجِسے سمجھے وہ کھوٹا نکلا

منزلوں پہ کیا لے جاتا بہک گیا خود ہی
وہ تو انسان بھی چھوٹا نکلا

sadia saher 2008 

اگر بس میں میرے ھو تو



اگر بس میں میرے ھو تو
تیری ھر رہ گزر کو
رنگوں جگنوؤں تتلیوں سے بھر دوں
تیری زندگی سے ھر غم مٹا کر
تیری قسمت کی لکیروں میں
ھر خوشی ھر آرام لکھ دوں
اگر بس میں میرے ھو تو


اگر بس میں میرے ھو تو
تیری دل کی ھر دیوار پہ
تیری دل کی ڈھرکن پہ
تیری آنکھوں تیری ھر نگاہ پہ
تیری ھاتھوں کی لکیروں میں
میں اپنا نام لکھ دوں
اگر بس میں میرے ھو تو


اگر بس میں میرے ھو تو
میں اپنی زندگی کا ھراک پل
ھر خوشی ھر صبح
ھر اک شام لکھ دوں
اگر بس میں ھو میرے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2009۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

کس حال میں ھیں میرے اہل ِ وطن


آج موسم بہت خوبصورت تھا لانگ ڈرائیو کرتے ھوئے تا حد نظر پھیلا ھوا سبزہ بہت اچھا لگ رھا تھا ھر طرف پھول کھلے ھوئے تھے ایک سحر طاری تھا اتنے حسین موسم کا طبعیت پر اثر طاری تھا گھر آکر ٹی وی آن کیا سوات کا اور وھاں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کا ایک پروگرام چل رھا تھا کس حال میں رہ رھے ھیں وہ دیکھ کر ایک نظم لکھی ھے

یہ ایک روشن سی صبح تھی
ھر سو بہار چھائ تھی
گلشن میں پھول مسکاتے تھے
بھنورے پریت کے گیت گاتے تھے
تتلی لہرا کرآ تی تھی
مہک فضا سے آتی تھی
کوئل خوشیوں کے نغمے سناتی تھی
میں نے کہا اے بادِ صبا
تو دور دیس سے آئ ھے
بول کیا سندیسہ لائ ھے
کچھ تو بتا کچھ حال سنا
کیسے ھیں میرے اہل ِ وطن
اس نے نجانے کیا سرگوشی کی
پھول سبھی مرجھانے لگے
تتلیاں سبھی خاموش ھوئیں
بھنورے گلشن ھی چھوڑ گئے
آوازیں سسکیوں کی آنے لگی
کوئل نوحے گانے لگی
کالی گھٹا چھانے لگی
بارود کی بو آنے لگی
سبزہ زار لہو رنگ ھو گیا
بادِ صبا نے مجھ سے کہا
کچھ اور بتا نہیں سکتی
اور حال سنا نہیں سکتی
سمجھنا ھے تو سمجھ جاؤ
اس حال میں ھیں تیرے اھل ِ وطن
اس حال میں ھیں تیرے اھل ِ وطن


sadia saher 2009

میرے خوابوں کی مجھے تعبیر دے دو


یہ نظم ایک ٹی وی پروگرام جو غریب بچوں پہ تھا دیکھ کر لکھی چھوٹے چھوٹے معصوم بچے کچرے کے ڈھیر سے کھانے کے لیے کچھ ڈھونڈ رھے تھے کیا ان بچوں کے یا ان کی ماؤں کے مستقبل کے حوالے سے کوئ خواب نہیں ھونگے سوچتے ھوئے دل کی عجیب حالت ھوئ…کوئ کافیہ ملتا ھے کہ نہیں جو میرے دل کی حالت ھوئ بس لکھتی گئ

ماضی جو تھا بیت چکا
ایک طویل رات تھی
جو لمحہ لمحہ گزری
جس میں آنسو تھے
آزمائیشیں تھیں
امتحان تھے
جو ھم نے برداشت کیے
کہ کبھی تو سحر ھوگی
کبھی تو ھماری زندگی میں سورج چمکے گا
دکھ کے بادل چھٹے گے
یہ گزرے دنوں کی بات ھے
آج بھی اندھیرے ھیں
مایوسی کے بادل چھائے ھیں
زندگی موت کی دھلیز پہ بیٹھی ھے
بھوک سے نڈھال میرے بچے
کتنی آس سے مجھے دیکھتے ھیں
میری ممتا تقاضہ کرتی ھے
تمام دنیا بھرکی خوشیاں
دنیا کی سب آسائیشیں
ان کو دے دوں
مگر میرے پاس ان کو دینے کے لیے
ایک نوالہ بھی نہیں
دنیا بننانے والے نے
ھماری قسمت نجانے کس سیاہ رات میں لکھی تھی
جس میں کہیں کوئ کرن نہیں
میری آرزوئیں میری خواھشیں کچھ بھی نہیں
مگر کوئ عالم
کوئ نجومی یہ بنا سکتا ھے
کہ ان معصوم بچوں کی ھاتھوں کی لکیروں میں
کتنے دن مشقت کے ھیں
ان کی قسمت میں ابھی کتنے فاقے ھیں
علم حاصل کرنے کی حسرت پالنے والوں کی
تقدیر میں علم کی روشنی ھے کہ نہیں
ممتا کا دن منانے والے
ممتا کو خراج پیش کرنے والو
مجھے ممتا کا کوئ انعام نہیں چاھیے
اگر خراج پیش کرنا ھے
ماؤں کی قربانیوں کا بدلہ چکانا ھے تو
بے بس ماؤں کے بچوں کو
کوئ ھنستا ھوا مستقبل دے دو
کچرے کے ڈھیرسے زرق ڈھونڈنے والے بچوں
کے ھاتھوں میں کتابیں دے دو
ان کو ان کی تقدیر دے دو
میرے خوابوں کی تعبیر دے دو
  sadia saher 2009

اے ھواؤ سال نو پہ میرے دیس جاؤ


اے ھواؤ سال نو پہ میرے دیس جاؤ
میری سر زمین کو میرا سلام کہنا
یاد کرتے ھیں تمہیں صبح شام کہنا
تمہارے لیے ھیں ھمارے رکوع و قیام کہنا
لگ رھے ھیں ھم پہ کیسے الزام کہنا
ھماری دعائیں ھیں تمہارے نام کہنا

اے چاند جب تم میرے وطن کی دھرتی
پہ اپنی چاندنی بکھیرو تو
وہاں میرے ھم وطنوں سے کہنا
ھو دور مگر دل کے پاس ھو تم
غم کی رات میں خوشی کا احساس ھو تم
نئ صبح نئ روشنی کی آس ھو تم

اے بارش جب تم میرے دیس پہ برسو توکہنا
آزمائش کی ان گھڑیوں کے بعد
خوشیوں کے پھول کبھی تو کھلیں گے
برسوں کے بچھڑے کبھی تو ملیں گے
پرانے زخم کبھی تو سلیں گے


اے سورج جب تم اپنی کرنیں بکھرو
تو بے حوصلہ لوگوں سے کہنا
دلوں میں امید کے دئیے جلاتے رہنا
نفرتوں میں محبت کے گیت گاتے رھنا
قربانیوں کی کہانیاں سناتے رھنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

سنو ۔۔۔۔۔۔۔ !!!! میں نے خوشیوں کے دیس جانا ھے


سنو ۔۔۔۔۔۔۔ !!!!
میں نے خوشیوں کے دیس جانا ھے
جہاں مسکراہٹیں ھوں
جہاں خوشیوں کے ترانے ھوں
سنو ------!!!
مجھے سکون کی تلاش ھے
مجھے دھشت ذدہ چہرے بے چین کرتے ھیں
سنو-----!!!
کیا تم مجھے بتاؤ گے
یہ زندگی کہاں ملتی ھے
میرے دیس میں موت کے سوداگر
گلی گلی موت بیچ رھے ھیں
ھر طرف لاشیں ھیں
خوف ذدہ چہروں کے بیچ
کچھ زندہ لاشیں
مجھے ان کے لیے زندگی چاھیے
ان بے سکون لوگوں کے لیے تھوڑا سا سکون چاھیے
کچھ مسکراہٹیں بھیک میں مل سکتی ھیں ؟؟؟
زندگی کے پل کچھ ادھار مل جائیں گے ؟؟
چند سانسیں ----
سکون کے لمحے کہیں سے لا دو
میرے دوست میرے مددگار
کون ھے ایسا
مجھے خوشیوں کے کچھ پل چاھیے
ھنستا ھوا حال
مسکراتا ھوا مستقبل
ایک ایسا ماضی جیسے یاد کر کے چہرے پہ آسودہ مسکراہٹ آجائے
مجھے خوشیوں کے دیس کا رستہ نہیں معلوم
سر پہ میرے
تا حدِ نظر تہہ در تہہ دکھوں کے بادل چھائے ھیں
میری آہیں میری دعائیں ان سے ٹکرا کر واپس لوٹ آتی ھیں
ایک کالی رات چھائ ھے
ایک مسلسل کالی رات ھے
سحر نجانے کب ھوگی
سنو ------- !!!!
کوئ آس کا دامن تھاما دو
کوئ جگنو دے دو
آنے والی سحر کی کوئ خبر

میں نے اپنے لوگوں کی آنکھوں میں چراغ روشن کرنےھے
سنو --------!!!!
کون سے خزانے کے بدلے یہ ملیں گے ؟؟
یہ چیزیں انمول ھیں
پیسے بھیک میں مل جاتے ھیں
موت کا سامان پیسے سے مل جاتا ھے
موت کے سوداگر پیسے کے بدلے اپنا ایمان بیچ دیتے ھیں
سنو------!!!
مجھے دنیا کی دولت نہیں چاھیے
مجھے کچھ مسکراہٹیں
کچھ خوشیاں چاھیے
کچھ سکون کے لمحے
سنو------!!!!


----------------------- سعدیہ سحر

اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے


8 مارچ کو ساری دنیا میں عورتوں کادن منایا جاتا ھے ۔ ترقی یافتہ ممالک میں عورتوں کی ترجیحات اور ھونگی مگر ترقی پزیر ممالک میں یا پاکستان میں جو سمینار ھوتے ھیں قانون بنائے جاتے ھیں کیا ان کا کوئ اثر روایتوں میں قید عورتوں کی زندگی پہ ھوتا ھے ؟
بڑے بڑے ھوٹلوں میں سمینار ھوتے ھیں لاکھوں روپے خرچ کیے جاتے ھیں مگر ظلم و ستم کی چکی میں پیسنے والی عورتوں کو کیا فائدہ ھوتا ھے ان کو تو شاید اس دن کا پتا بھی نا ھو
پاکستان میں پچھلے سال بہت سے واقعات ھوئے ابھی ایک رپورٹ پڑھ رھی تھی جس میں پاکستان میں عورتوں پہ ھونے والے ظلم و ستم کے اعدادو شمار تھے وہی پڑھ کر یہ لکھا ھے

اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس بے حس دنیا میں
جہاںشملے اونچے رکھنے کے لیے
بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیا جاتا ھے
جہاں بھائیوں کے گناہوں کا کفارہ
بہنوں کو ادا کرنا پڑتا ھے
جہاں زندہ رھنے کی خواھش میں مرنا پڑتا ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس بے درد دنیا میں
جہاں جائیداد کے بٹوارے کے خوف سے
بہنوں کے خوابوں کے ٹکڑے کر دیے جاتے ھیں
بیٹیوں کو بیاھنے کے خواب دیکھنے والی ماؤں کے سامنے
ان بیٹیوں کو خاموشی سے قرآن سے بیاہ دیا جاتا ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس دنیا میں جہاں قدم قدم پہ امتحان ھے
جہاں اپنی ذات کے اظہار ھے کی خواھش کے بدے
اس کی ذات اس کی ھستی کو فنا کر دیا جاتا ھے
جہاں اپنی آرزوؤں کے اظہار پہ
اپنے ھاتھوں سے قتل کرنے پہ
باپ اور غیرت مند بھائیوں کی ناک اونچی ھوتی ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس روایتوں کی قیدی دنیا میں
اے میری خوش فہم مائیں
کس آس پہ بیٹی کا نام سرداراں رکھا
نام رکھنے سے قسمت نہیں بدلتی
مختاراں نام رکھنے سے جینے کا اختیار نہیں ملتا
تسنیم کی ذات کی تسلیم نہیں کیا جاتا
شہزادی کہنے سے عمر بھر کی غلامی سے نجات نہیں ملتی
کیوں جنم دیا مجھے میری بے بس مائیں
تیرے قدموں تلے تو صدیوں پہلے جنت لکھی گئ تھی
پھر اس جنت کو قدموں تلے کیوں روندا جاتا ھے
خوش بخت تھی عرب کی بیٹیاں
جو ایک بار مرتی تھیں
یہاں تو آج بھی ایک ایک سانس کے بدلے
ھزار بار زندہ درگور ھونا پڑتا ھے
اے مائیں کیوں جنم دیا مجھے
اس دنیا میں جہاں قبروں کو پوجا جاتا ھے
اور زندہ لوگوں سے زندہ رھنے کا حق چھین لیا جاتا ھے
جہاں روایتوں کو زندہ رکھنے کے لیے
لوگوں کو مرنا پڑتا ھے
اے میری بے بس اور مجبور مائیں
کیوں جنم دیا مجھے
اے مائیں
sadia saher 2009

میں نے کہا مجھے عشق ھے


میں نے کہا مجھے عشق ھے
اس ذات سے جو خالقِ کائنات ھے
جو میری شہ رگ کے قریب ھے
جس کے ھاتھ میں میرا نصیب ھے
وہی میرا مالک میرا محبوب ھے
اس نے مجھے خوشیاں دیں
میں ان میں مگن ھوگئ
اس نے مجھے نوازا میں مغرور ھو گئ
میں نے اسے اپنا محبوب مانا
میں نے اپنے دل کی خواہشات کا احترام کیا
میں نے اپنی دل کے لیے اسے بہت بار نظر انداز کیا
اس یقین کے ساتھ وہ رحمان ھے معاف کردے گا
وہ میرا محبوب ھے میرے ساتھ رھے گا
بنا مانگے میری ھر خواہش پوری کرے گا
مجھ سے ناراض بھی ھوا تو
میری آنکھ کا ایک آنسو اسے میرے قریب لے آئے گا
میں نے اسے چاہا مگر اس کے رنگ میں رنگی نہیں
میں نے اسے یاد کیا تو انگلیوں پہ گن گن کر
میں نے سجدے کیے مگر وصل کی لذت سے ناآشنا
شام ِ ہجراں گزریں محبوب کے وجود سے بے خبر
یہ میں نے کیسا عشق کیا
محبت تو اس نے کی
میری نادانیوں کے باوجود
مجھے محبت ھی محبت دی
ھر موڑ پہ میرا ساتھ دیا
اگر وہ بھی میرے جیسا بن گیا
اس نے مجھے نظر انداز کر دیا
مجھ سے بڑا بدنصیب کون ھوگا
آج میں نے جانا
میرا عشق ادھورا
میری ذات ادھوری ھے
میرا وجود میری ھر بات ادھوری ھے
اس عشق بنا یہ کائنات ادھوری ھے
اس سے ھوئ ملاقات ادھوری ھے
میں نے کہا مجھے عشق ھے اس کی ذات سے
اے میرے محبوب مجھے اپنے رنگ میں رنگ دے
میرے ادھورے عشق کو مکمل کردے
وصل کے لمحوں وہ لذت بھر دے
میری تنہائیوںمیں بس تیری ھی ذات ھو
زبان پہ ھر دم تیرا ذکر تیری بات ھو
تیری یاد میں بسر ہر دن رات ھو
میں نے کہا مجھے عشق ھے

--------------------- سعدیہ سحر

وادئ سوات


وہ کھلتا آسماں
وہ مہکتی زمیں
وہ روشن چہرے
خوشیوں کے ھر سو پہرے
وہ جنت نظیر سر زمیں
جہاں تتلیوں کا بسیرا تھا
جہاں جگنوؤں کا ڈیرا تھا
کھیتوں کا رنگ سہنرا تھا
یہاں موسم گنگناتے تھے
اپنے پرائے سکوں کے لیے آتے تھے
کوئل رسیلے گیت گاتی تھی
بارش میں ھر شے نکھر جاتی تھی
فضائیں مسکراتی تھی
وہ سر زمین اپنوں کے ھاتھوں لٹ رھی ھے
اب اس جنت پہ موت کا ڈیرا ھے
ھر اک سانس پہ خوف کا پہرا ھے
بہاریں اب ھم سے روٹھ گئ ھیں
صبر کی حدیں ٹوٹ گئ ھیں
یہاں اب فضائیں بین کرتی ھیں
لہو کی برسوں سے برسات ھوتی ھے
ھواؤں میں بارود کی مہک رچ گئ ھے
جگنو جگمگانا بھول گئے ہیں
تتلیاں نجانے کہاں کھو گئ ھیں
زمیں لہو رنگ ھو گئ ھے
اگر ھو سکے تو
میرے آنگن کی خوشیاں لوٹا دو
میری تتلیاں میرے جگنو
وہ بہاریں
وہ زندگی سے بھر پور نظارے
اگر یہ ھو سکے تو
کیا یہ ممکن ھے ؟
اگر ھو سکے تو
جنت نظیر نہ سھی
انسانوں کے رھنے کا بسیرا ھی بنا دو
میرے آنگن کی بہاریں لٹا دو

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 2009۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

اگر ھو سکے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


میں نے دیکھا کچھ لوگوں کو
ویران چہرے بنجر آنکھیں
جن میں کہیں کوئ سپنا نہ تھا
آنکھوں میں نمی کے ساتھ
ھزار شکوے تیر رھے تھے
وہ خاموش لبوں سے آسمان کی طرف دیکھتے ھوئے
خدائے واحد کی ذات سے شکوے کر رھے تھے
مگر سوچو تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ تو کسی سے زیادتی نہیں کرتا
قدرت تو ھر ایک کو برابر حصہ دیتی ھے
ھوا سب کے لیے چلتی ھے
سورج اپنی کرنیں سب پہ لٹاتا ھے
چاند اپنی چاندنی کے ساتھ غریب کے آنگن میں بھی اترتا ھے
پھول محل ھو کہ غریب کی کٹیا ایک سی خوشبو بکھیرتا ھے
میٹھے پانی کے جھرنا سب کے لیے بہتا ھے
بادل سب پہ برستا ھے
شجر ھر کسی کوپھل اور چھاؤں دیتا ھے
اللہ سب کو قوتِ بازواورسوچنے سمجھنے کی سب حِسیں دیتا ھے
یہ دنیا کی تقسیم
یہ لوگوں کے دلوں میں بڑھتی ھوئ خلیج
یہ ذات پات یہ رسموں رواج
یہ انسانوں کو مشکل میں ڈالنے والی روایتیں
یہ تو انسانوں کی اپنی بنائ ھوئ ھیں
تو پھر شکوہ اللہ کی ذات سے کیوں
ذات پات کی قید سے رہائ ممکن ھے
روایتوں کو بدلہ جا سکتا ھے
رسموں رواج بدل سکتے ھیں
مگر بدلے گا کون ؟؟
کیا اللہ اترے گا فرشتوں کے لشکر کے ساتھ ؟؟
انسانوں کے بنائے ھوئے قانونوں انسان بدل سکتا ھے
اگر ھو سکے تو تم ایک پل کے لیے سوچنا
یہ جو ابد سے چلے آرھے ھیں دنیا کے معبود دنیا کے نا خدا
جن کے سامنے زمانہ سر جھکاتا ھے
اللہ ان کے ساتھ کیا کرتا ھے
کیسے ان کے محل تہ وبالا کرتا ھے
ان کو قیامت تک کے لیے عبرت کا نشان بنا دیتا ھے
مگر لوگ سوچتے سمجھتے نہیں
پہلے زمانوں کے خداؤں کے محل ابھی بھی قائم ھیں
یہ عبرت کا نشان ھیں آج کے دولت کے پجاریوں کے لیے
مگر لوگوں کے پاس دولت کی طاقت ھے سوچنے سمجھنے کی نہیں
اگر شکوہ کرنا ھے تو دنیا کے خداؤں سے کرو
لب کھولنے ھیں تو ان کے سامنے کھولو
حق کے لیے لڑنا ھے تو ان سے لڑو
اگر ھو سکے تو
اللہ کی ذات کائنات کے رازوں کو سمجھو
اگر ھو سکے تو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

بہت انجان یہ محبت ھے


ھر زمانے میں
ھر اک سوچ نے
بہت سوچا
بہت لکھا
بہت پرکھا ھے
اس محبت کو
پھر بھی
عجب سی بات ھے
آج بھی
بہت انجان
یہ محبت ھے
بہت انجان یہ محبت ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ سعدیہ سحر

یہ سال بھی ھو رھا ھے دھواں


یہ سال بھی ھو رھا ھے دھواں
بکھر رھا ھے ھر طرف دھواں
کہیں ھے یادوں کا دھواں
بیتی باتوں کا دھواں
ٹوٹے خوابوں دھواں
پھیلا ھے ھر سو نفرتوں کا دھواں
اجڑے گھروں کا دھواں
جلتی لاشوں کا دھواں
میرے اپنوں کا دھواں
سنہرے سپنوں کا دھواں
زمیں دھواں
آسماں دھواں
گزرا کل بھی دھواں
بیت رھیں پل بھی دھواں دھواں
آنے والے پل میں کیا ھوگا
کیا پھر دھواں ؟؟؟؟؟
یہ سال ھو رھا ھے دھواں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

کون سوچتا ھے


محبت کے آغاز پر
انجام کی کون سوچتا ھے
محبت میں ملن ھوگا
یا ملے گی جدائ کون سوچتا ھے
محبت میں ملے گی زندگی
کہ موت سے ھوگا انجام
کون سوچتا ھے
ملے گی ھر موڑ پر خوشیاں
یا دکھ درد پڑے گا سہنا
کون سوچتا ھے
وصل کے کتنے پل ھونگے
یا دردِ نارسائ پڑے گا سہنا
کون سوچتا ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

چلو جدا ھو جائیں


جدا تو ھمیں ایک دن ھونا ھی ھے 
تو پھر کیوں نہ جو کام کل کرنا ھے 
وہ آج ھی کرلیں
اک بار جدا ھو کر دیکھتے ھیں
نہ کوئ قیامت آئے گی
نہ کوئ طوفان آئے گا
تم تم ھی رھو گے
میں میں ھی رھونگی
کسی ایک کے جدا ھونے سے 
دنیا نہیں بدل جاتی
یہ دن رات یہی رھتے ھیں
زندگی چلتی رھتی ھے 
پھر دھیرے دھیرے
نا محسوس طریقے سے
بچھڑنے والے کی جگہ
کوئ اور لے لیتا ھے 
چلو اک بار جدا ھو کر دیکھتے ھیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

اے بشر تو خاک کا پتلا ھے



اے بشر
تو خاک کا پتلا ھے
خاک سے اٹھا ھے
خاک میں مل کر
پھر خاک ھی ھونا ھے
کرتا ھے کیوں بڑائ
کیا دل میں تیرے سمائ
نفرت کیوں پھیلائ
زندگی سے کسی پل ھے جدائ
رہ جائے گی بس خدائ
اے بشر
تو خاک کا پتلہ ھے
کتنا تو اکڑتا ھے
دولت پہ مرتا ھے
ظلم تو ڈھاتا ھے
حق کو چھپاتا ھے
تقدیروں کے فیصلے خود تو کرتا ھے
موت کے سامنے پر کچھ کر نہیں پاتا ھے
اے بشر
تو خاک کا پتلا ھے
دنیا جب چھوٹے گی
سانس کی ڈور جب ٹوٹے گی
زندگی جب روٹھے گی
کچھ کر نہیں پائے گا
عاجز ھے تو کتنا
بے بس ھے تو کتنا
اے بشر
تو خاک کا پتلا ھے
خاک سے اٹھا ھے
خاک میں مل کر
پھر خاک ھی ھونا ھے

سعدیہ سحر……………………………..

اظہارِ محبت


جب بھی کرینگے 
آپ ھم سے اظہارِ محبت 
انجان بن کر کہیں گے ھم
سنا نہیں
زرا مکرر فرمائیے

بارش کا ایک قطرہ

میں بارش کا ایک قطرہ 
ایک بے حثیت و بے نشان 
اور قطروں سے ملا
اپنے سفر کا آغازکیا 
پتھروں سے ٹکراتے ھوئے 
چھوٹے بڑے راستوں سے گزرتے ھوئے 
سردی گرمی سہتے ھوئے
اپنے سفر کو جاری رکھا
میں نے ایک ندی کا روپ دھارا
کبھی صحرا کبھی چٹانوں سے ٹکراتے ھوئے
کئ ندیاں مجھ سے ملتی رھیں
میں دریا بنا
بنجر زمینوں کو سیراب کرتے ھوئے
پیاسوں کی پیاس بھجاتے ھوئے
میلوں کا سفر کرتے ھوئے
اپنے راستے بناتا ھوا
میرے عزم کو کوئ روک نہیں سکا
میں سمندر سے ملا
میرے اوپر کھلا آسمان ھے
میری تہہ میں خزانے بھرے ھیں
میں بارش کا ایک قطرہ
آج سمندر ھوں
میری لہروں میں ھزار قطروں کی جان ھے
دنیا کی زندگی چھپی ھے

----------------------- سعدیہ سحر

میں اپنی ذات کا کبھی اظہار نہیں کرتی


میں اپنی ذات کا کبھی اظہار نہیں کرتی
شاید میں خود سے بھی پیار نہیں کرتی

کیا کھویا کیا پایا چھوڑو اب اس کو
میں تقدیر سے کبھی تکرار نہیں کرتی

دنیا کی عدالت میں خاموش رھتی ھوں
میں لفظوں سے کسی کو سنسار نہیں کرتی

اپنے جذبوں کو چھپا رکھا ھے تہہ دل میں
میں اپنے جذبوں کا بیوپار نہیں کرتی

ھاتھوں کی لکیروں میں کیا لکھا سوچا نہیں
میں اب ان باتوں پر اعتبار نہیں کرتی

زندگی کا سفر گزر رھا ھے دھیرے دھیرے
میں دن مہینوں کا شمار نہیں کرتی

نہ دنیا سے شکوہ نہ کسی سے شکایت ھے
میں کسی سے بھی گلہ سرکار نہیں کرتی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

تجھے بھلانے میں ابھی وقت لگے گا


تجھے بھلانے میں ابھی وقت لگے گا
تجھ سے دور جانے میں ابھی وقت لگے گا

تجھ سے جدا ھو کر مر جاؤں گی
اپنا حوصلہ آزمانے میں ابھی وقت لگے گا

سوچا نہ تھا کچھ بھی تیرے سوا
دل کو بہلانے میں ابھی وقت لگے گا

ھر جذبہ تھا دل میں فقط تیرے نام کا
ھر جذبے کو سلانے میں ابھی وقت لگے گا

دور تلک تیرے ساتھ چلی ھوں
لوٹ کر آنے میں ابھی وقت لگے گا

دل تو نا سمجھ ھے کچھ مانتا نہیں
دل کو سمجھانے میں ابھی وقت لگے گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ سعدیہ سحر

دل کی بات


سنا ھے دل کی بات کہہ دینے سے
دل کا بوجھ ہلکا ھو جاتا ھے
گر میں اپنے دل میں دیکھوں
تو ایک خاموشی ھے
تنہائ ھے
سناٹا ھے
جیسے کوئ صحرا
جہاں تا حدِ نظر کچھ بھی نہ ھو
ایسے لگ رھا ھے جیسے
میرے الفاظ کھو گئے ھیں
احساسات مر گئے ھیں
جذبات سرد ھو گئے ھیں
ایسا کیوں ھے
میں خود نہیں جانتی
میرا دل ویرانہ کیوں بنا

---------------- سعدیہ سحر

محبت زندگانی ھے

محبت میں
دوستی کے رشتوں میں
یہ لڑنا جھگڑنا 
دوریاں بڑھاتے ھیں
یہ پل دوری کے 
سوئ محبت جگاتے ھیں
تجدید محبت کے پل سے
محبت مسکراتی ھے 
فضا گنگناتی ھے
بن کے کہکشاں
ھماری زندگی کو جگمگاتی ھے
محبت مٹتی نہیں
دل میں بستی ھے
گردش ایام میں
مدھم ھو بھی جائے تو
محبت مرتی نہیں
مر کر بھی زندہ رھتی ھے
محبت لافانی ھے
یہ ھے کائنات پہ محیط
محبت ھر پل میں
محبت ھے خوشی
یہ زندگی ھے
محبت بندگی ھے
محبت کی بس دو لفظوں کی کہانی ھے
محبت زندگانی ھے
محبت لافانی ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

مردے کبھی بولا نہیں کرتے



تم نے کہا
میری آنکھوں کی ویرانیاں
تمہیں پریشان کرتی ھیں
میرے خاموش لبوں کو
تم گھنٹوں تکا کرتے ھو
تم نے کہا
میں اپنے دل کی
ھر بات تم سے کہہ دوں
میرا دل تو کب کا مر چکا
اور
یہ بات تو تم بھی جانتے ھو
کہ
مردے کبھی بولا نہیں کرتے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر

اے ابنِ آدم تم اک بات سمجھ لینا


عورت کو کبھی کانچ کبھی نازک آبگینہ کبھی پھول کہا جاتا ھے کتنا اچھا ھو اگر اسے ایک نارمل جیتا جاگتا انسان سمجھا جائے احترام کیا جائے

اے ابنِ آدم تم اک بات سمجھ لینا
کہ لڑکیاں پھول نہیں ھوتیں
رستے کی دھول نہیں ھوتیں
پھول تو پھول ھوتے ھیں
ھر جذبے سے عاری
انھیں سجا دو چاہے سیج پہ
چاہے کسی مزار کا مقدر بنیں
چاہے کسی خوشی یا غمی کا اظہار ھو
یہ تو سوکھتے ھیں
بکھر جاتے ھیں
لڑکیاں تو خوشی سے کھلتی ھیں مہکتی ھیں
کائنات کو مہکاتی ھیں
جو دکھ ھو کوئ
کسی شمع کی ماند
قطرہ قطرہ
دھیرے دھیرے
غم میں گھولتی ھوئ مٹ جاتی ھیں
مگر آخری سانس تک
جب تک ھو سکے
روشنی پھیلاتی ھیں
لڑکیاں پھول کیسے ھو سکتی ھیں
وہ تو بے جان ھوتے ھیں
لڑکیاں احساسات رکھتی ھیں
اپنے جذبات رکھتی ھیں
لڑکیاں بے مول نہیں ھوتیں
مگر اپنوں کی محبت میں بے مول بک جاتی ھیں
کبھی ماں باپ کی
عمر بھر کی ریاضتوں کے بدلے
بہت سے ان چاہے فیصلوں پر
خاموشی سے سر جھکاتی ھیں
وہ ھر بات کا شعور رکھتی ھیں
عورت کسی بھی روپ میں ھو
اسے کبھی بھی بے جان پھول نہیں سمجھنا
بنتِ آدم بھی تم جیسی ھے
اے ابنِ آدم
تم یہ بات سمجھ لینا

امنگ


ایک ڈرامہ دیکھ رھی تھی اس میں ایک کالا سا لڑکا تھا جیسے اس کی ماں میرا چاند کہتی ھے میرے سامنے اخبار تھا ھنستے ھوئے اسی پہ ایک شعر لکھ دیا۔۔۔ چانن ھیں ھم اپنے ماں پیو کا ۔۔ کی ھویا جو کالا اپنا رنگ ھے۔۔ اس کے بعد پوری نظم لکھ دی ۔۔۔۔۔
تانیہ نے ایک بار مجھ سے کہا تھا تئم شاعری ھمیشہ ورتے ھوئے ھی کیوں کرتی ھو تو تانیہ دیکھ لو کبھی کبھی میں ھنستے ھوئے بھی شاعری کرتی ھوں ۔۔ یہ اردو پنجابی مکس ھے ۔۔

چانن ھیں ھم اپنے ماں پیو کا
کی ھویا جو کالا اپنا رنگ ھے

اس سوہنی کڑی کو چھیڑے نا کوئ
او سوہنی کڑی ساڈی منگ ھے

کی کر ے گا اپنا اے زمانہ
کڑی کا ابا ساڈے سنگ ھے

محبت میں نشہ ھے عجیب سا
محبت ھے کہ کوئ بھنگ ھے

ڈولتا رہتا ھے اِدھر تے اُدھر
یہ دل ھے کہ کوئ پتنگ ھے

سر پہ بیٹھائیے چاھے خوار کریئے
پیار کرنے کا ساڈا اپنا ڈھنگ ھے

ھم ھیں سکندر ابا ھیں اعظم
دنیا ھوگی اپنی یہی امنگ ھے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ سعدیہ سحر

وہ معصوم دھشت گرد دھشت سے مر گیا


اسے ماں نے بڑی منتوں مرادوں سے مانگا تھا
میرا چاند میرا پیارا کہہ کر پکارا تھا
وہ ننھا فرشتہ سب کی آنکھوں کا تارا تھا
جس کو دیکھ کر ھزار خواب
ماں کی آنکھوں میں جاگے تھے
کرے گا سب کا نام روشن
ملک و ملت کے لیے کئ کام کرنے ھیں
ھوگا امن کا پاسباں
بنے گا سچا مسلم
ھر روز نئے خواب دیکھنے والی
فلسطینی ماںبھول گئ تھی
ان کو سپنے دیکھنے کا کوئ حق نہیں
ان سے پہلے بھی لوگوں نے کئ سپنے سجائے تھے
مگر مقدر سپنے دیکھنے سے نہیں بدلتا
کتنی گودیں سونی ھوگئیں
کتنی سہاگنوں کی آنکھوں میں خزاں کاموسم ٹھہر گیا
مگر اس کی ماں
خون بھری زمین پہ پھول کھلانے کے خواب دیکھتی تھی
روتی آنکھوں کو ھنسانے کے خواب دیکھتی تھی
مگر دنیا کہتی تھی
وہ خطرناک لوگ ھیں
ان بے بس لوگوں سے
دنیا کے امن کو خطرہ ھے
پھر اٹھے امن کے پاسباں
دنیا سے دھشت مٹانے کو
کتنی طاقت سے
کتنے راکٹ برسے
اور
دھماکوں کے شور میں
وہ معصوم دھشت گرد دھشت سے مر گیا

---------------------------- سعدیہ سحر