آجکل کے حالات کی کہانی اگر سب سچ نہیں تو سب جھوٹ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی تک گھر نہیں پہنچا تھا . پروین بار بار دروازے کے چکر لگا رھی تھی آجکل کے حالات میں بچے گھر سے باھر جائیں تو ماؤں کے دل کاپتے رھتے ھیں بار بار دعائیں کرتی ھیں ذرا ذرا سے کھٹکے پہ دل ڈھرکنے لگتا ھے جاوید کی وفات کے بعد فراز ھی اس کی امیدوں اور زندگی کا واحد سہارا تھا اس کی سانسوں کی ڈور اس کے ساتھ بندھی ھوئ تھی فراز نے میٹرک میں بورڈ میں ٹاپ کیا وہ اپنے باپ کا خواب پورا کرنا چاھتا تھا جاوید کا خواب تھا کہ ان کا اکلوتا بیٹا ڈاکٹر بنے دنیا میں نام کمائے غریبوں کی مدد کرے ان کی دعائیں لے فراز اپنے دوست احمد کے ساتھ مل کر پڑھائ کرتا تھا دنوں کرکٹ کے دیوانے تھے
حالات جیسے بھی ھوں بچوں کو گھر میں قید کر کے بیٹھایا نہیں جا سکتا آزادی سے گھومنا ان کا حق ھے .
فراز میں کچھ عرصہ سے کچھ تبدیلی آرھی تھی ملکی حالات بدلنے کی بات کرتا تھا مذھب اور سیاست میں دلچسپی لینے لگا تھا پروین خبریں دیکھ رھی تھی لال مسجدکے واقہ پہ ایک رپورٹ دیکھائ جا رھی تھی قبائیلی علاقوں کی خبر تھی پھر آج 8 لوگ مارے گئےفراز میں عجیب سی بےچینی محسوس ھورھی تھی ایک دم غصے سے بولا آخر کب حالات بدلیں گے پروین کو لگا جوانی کا جوش ھے اس عمر میں ا نسان یساا ھو جاتا ھے
جاوید کی روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات بعد زندگی جیسے ایک دم بدل گئ تھی .خدا کا شکر ھے گھر اپنا تھا مگر آمدن کا زریعہ ختم ھوگیا تھا چار کمروں کے گھر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا پیٹ بھرنے کے لیے تھوڑا سا کرایہ ملنے لگا پروین کی سیکھی ھوئ سلائ کام آرھی تھ یاس نے سلائ شروع کر دیا فراز کی پڑھائ کا خرچ بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس نے محلے کی لڑکیوں کوسلائ سیکھانے کا کام شروع کر دی وہ بچت کر رھی تھی جاوید کا خواب پورا کرنا تھا..فراز کا قد اس سے لمبا ھو گیا تھا اسے لگ رھا تھا جیسے غموں کی شام ڈھل رھی ھے
آج فراز سوچوں میں گم تھا پروین نے پیار سے دیکھا بیٹا
امی کیا شہید سیدھے جنت میں جاتے ھیں وہ ھمیشہ زندہ رہتے ھیں
ہاں بیٹا شہادت کی تمنا تو ھر مسلمان کے دل میں ھوتی ھے شہید کا رتبہ بہت بلند ھوتا ھے قرآن میں ھے ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ھیں مگر تم شعور نہیں رکھتے
فراز ھنستے ھوئے کہنے لگا پھر تو میں ھمیشہ آپ کے پاس رھوں گا
پروین نا سمجھی کے عالم میں اسے دیکھنے لگی کیا تم اپنی ماں کو چھوڑ کر کہیں جا سکتے ھو
فراز نے گود میں سر رکھ دیا ماں آپ بھی نہ ….میں تو ھمیشہ آپ پاس رھنے کی بات کر رھا ھوں میں کبھی آپ سے جدا نہیں ھونگا
خدا کبھی جدا نہ کرے اب تو کچھ کھونے کا حوصلہ بھی نہیں پروین نے دل میں سوچا
آجکل فراز کی روٹین چینج ھوتی جارھی تھی وہ کبھی کبھی الجھ جاتی وہ اس کے رویے کو سمجھ نہیں پا رھی تھی فراز جلدی جلدی کھانا کھا رھا تھا
کہیں جانا ھے
جی امی فراز نے جلدی سے نوالہ نگلتے ھوئے کہا
کیا بات ھے کیا کوئ میچ ھے
نہیں امی آج کسی سے ضروری ملنا ھے فراز نے جلدی تسمے باندھتے ھوئے کہا
آرام سے کھانا تو کھا لیتے
بس امی پیٹ بھر گیا…خدا حافظ جلدی سےکہتا ھوا چلا گیا
واپس آیا تو کافی چپ تھا
بیٹا آجکل کن سوچوں میں گم رھتے ھو
کچھ نہیں امی
کیا پڑھائ کے لیے پریشان ھو..کوئ اور مسلہ ھے تو بتاؤ
نہیں امی کوئ ایسی بات نہیں
ٍفراز خاموشی سے لیٹ گیا پروین اپنے بیٹے کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی وہ ماں ھو کر بھی سمجھ نہیں پا رھی تھی
ایک دم فراز اٹھ بیٹھا امی کیا ھزاروں لوگوں کی بہتری کے لیے ایک انسان اپنی جان کی قربانی دے سکتا ھے
ھاں بیٹا جب پاکستان بنا تو ھزاروں لوگوں نے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا تھا
فراز ایک بار پھر سوچوں میں گم ھوگیا وہ اس کے چہرے کے اتار چرھاؤ دیکھ رھی تھی
امی
ھوں بیٹا
سسٹم بدلنا ھے اس کے لیے قربانی چاھیے
کونسا سسٹم کونسی قربانی اس نے حیران ھو کر پوچھا
کچھ نہیں امی نیند آرھی ھے اب میں سوؤں گا
فراز کالج سے آکر باھر جانے لگا جاتے جاتے رک گیا چپ کر کے ماں کو دیکھنے لگا پھر ایک دم آکر گلے لگ گیا پروین ھنسنے لگی کیا ھواپیار سے اس کا ماتھا چوما اس نے دیکھا تو فراز کی آنکھون کے گوشے بھیگے ھوئے تھے
کچھ نہیں امی دروازہ بند کرلیں اپنا خیال رکھنا
پروین ھنستے ھوئے سوچنے لگی ابھی بھی بالکل بچہ ھے
وہ گھر کے کاموں میں مصروف تھی گھنٹی بجی دیکھا تو احمد تھا
خالہ جان فراز آجکل کہاں ھوتا ھے .کرکٹ کھیلنے بھی نہیں آتا سب دوست مل کر پڑھتے ھیں مگر فراز نہیں آتا
مگر بیٹا وہ تو روزانہ جاتا ھے میں سمجھی وہ تمہارے ساتھ ھوتا ھے
نہیں خالہ جان آجکل کالج سے بھی کہیں چلاجاتا ھے پتا نہیں کن لوگوں سے ملتا ھے قربانی انقلاب کی باتیں کرتا ھے
ھاں دیکھ تو میں بھی رھی ھوں مگر وہ کھل کے کچھ نہیں بتاتا نجانے کیا سوچتا رھتا ھے
پروین سوچنے لگی آج ضرور پوچھے گی کن لوگوں سے دوستی ھے کہاں جاتا ھے فراز عموماً
9 بجے تک آجاتا تھا پورین جلدی جلدی کھانا لگا رھی تھی خبریں شروع ھو رھی تھی
خاص خاص خبریں ملکی اور بین الاقوام یخبریں ..آج پھر ایک خودکش حملہ 18 لوگ مارے گئے پروین سوچنے لگی نا جانے کون ھیں یہ لوگ ….حملہ آرو کا سر مل گیا اب حملہ آور کا سردیکھا رھے تھے پروین کے ھاتھ سے سالن کا ڈونگہ گر گیا اس کی آنکھیں سکرین پہ خون سے لت پت فراز کے چہرے پہ جمی ھوئیں تھیں اس کے کانوں میں انقلاب شہادت قربانی کی آوازیں گونج رھی تھیں آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رھا تھا وہ دل پہ ھاتھ رکھتی ھوئ ھوش و حواس سے بیگانہ ھو گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ سعدیہ سحر