Sonntag, 7. April 2013
نیرو ظالم تھا
دنیا کی تاریخ میں جب بھی ظالم لوگوں کا ذکر آتا ھے تو نیرو کا ذکر آتا ھے کہ وہ ظالم تھا اس میں اب کتنی حقیقت ھے کتنی کہانی ھے کہتے ھیں جب روم جل رھا تھا تو نیرو چین کی بانسری بجا رھا تھا
یہ پرانی کہانی ھے اب انسان مہذب ھو گیا ھے اب ھر انسان کے لیے قانون ھیں سب کے حقوق ھیں اب کوئ کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کر سکتا ھم اپنے اردگرد دیکھیں تو ھمیں مہذب لوگ نظر آتے ھیں
سنا تھا قانون اندھا ھوتا ھے وہ کسی ذات برادری کو نہیں دیکھتا پاکستان میں تو اندازہ ھوتا ھے کہ واقعی ھی قانون اندھا ھو چکا ھے
ظالم نیرو جلتے ھوئے لوگوں کو دیکھ کر چین کی بانسری بجاتا تھا آج کا مہذب نیرو عوام کو گرمی میں بنا بجلی کے جلتا ھوا دیکھ کر اپنے اے سی کمرے میں تھری پیس سوٹ پہن کر سکون سے رٹے رٹائے جملے بولتا ھے دل بہلانے والے وعدے کرتا ھے جھوٹی تسلیاں دیتا ھے خوبصورت مستقبل کے سپنے دیکھاتا ھے سپنے دیکھنے اور دیکھانے کے لیے کچھ نہیں کرنا پڑتا مگر سپنوں کو پورا کرنے کے لیے ھمت چاھیے ھوتی ھے جو اب حکمرانوں میں ھے کہاں…
جلتے ھوئے روم کا نظارہ ظالم نیرونے دور پہاڑ سے کیا تھا آج کا نیرو دھماکوں میں جلتے مرتے خودکشی کرتے عوام کو دور سے بھی نہیں دیکھتا خبریں بھی نہیں سنتا کیونکہ اس میں حقیقت سے آنکھیں چار کرنے کی ھمت نہیں ..وہ آرام دہ گھر میں بیٹھ کر غیر ملکی ٹی وی چینلز سے لطف اندوز ھوتا ھے
ظالم نیرو روم کو نئ شکل دینا چاھتا تھا ایک ماڈرن روم دیکھنا چاھتا تھا اپنے خواب کی تعبیر چاھتا تھا آج کے مہذب نیرو کی آنکھوں میں غیر ممالک کے پر فضا مقام پہ محل بنانے کے سپنے ھوتے ھیں
آج کا نیرو خود غرض ھی نہیں بے حس بھی ھے ماضی میں ایک نیرو تھا مگر اب ھماراپالیمنٹ ھاؤس بھرا ھوا ھے جو کسی فرعون کی طرح قانون بناتے ھیں اور خود ھی توڑتے ھیں اور منتخب افراد کو کٹ پتلی کی طرح نچاتے ھیں اور عوام موت کے سائے میں بیٹھی دم بخود پتلی تماشہ دیکھ رھی ھے
Abonnieren
Kommentare zum Post (Atom)
Keine Kommentare:
Kommentar veröffentlichen