Sonntag, 7. April 2013
امن کی فاختہ مر چکی ھے
کتنے ھی لوگ اٹھے
ھاتھوں میں ھتھیار لیے
امن کے خواہاں
لاکھوں کی فوج لیے
ملک ملک
قریہ قریہ
کبھی فضا
کبھی زمیں ہلا دی
کتنے لوگ مرے
کتنے گھر ویران ھوئے
کتنے سپنے ٹوٹے
امن کی تلاش میں بھٹکنے والے
بندوق کے زور پہ امن کرنے والے
ھر دور مین ناکام ھوئے ھیں
بارود کے ڈھیر پہ
لوگ سکون کی نیند نہیں سوتے
جو اب یہ کہتے ھیں
دنیا مین امن کیوں نہیں ھوتا
کوئ جا کر ان سے کہہ دے
تمہاری تلاش فضول ھے
تمہاری محنتیں رائیگاں جائیں گی
امن کی فاختہ اب کبھی نہیں آئے گی
کیونکہ
امن کی فاختہ تو
راکٹوں کے شور سے
نے گناہ لوگوں کی چیخوں سے ڈر کر
مر چکی ھے
----------2009---------- سعدیہ سحر
Abonnieren
Kommentare zum Post (Atom)
Keine Kommentare:
Kommentar veröffentlichen