یہ نظم ایک ٹی وی پروگرام جو غریب بچوں پہ تھا دیکھ کر لکھی چھوٹے چھوٹے معصوم بچے کچرے کے ڈھیر سے کھانے کے لیے کچھ ڈھونڈ رھے تھے کیا ان بچوں کے یا ان کی ماؤں کے مستقبل کے حوالے سے کوئ خواب نہیں ھونگے سوچتے ھوئے دل کی عجیب حالت ھوئ…کوئ کافیہ ملتا ھے کہ نہیں جو میرے دل کی حالت ھوئ بس لکھتی گئ
ماضی جو تھا بیت چکا
ایک طویل رات تھی
جو لمحہ لمحہ گزری
جس میں آنسو تھے
آزمائیشیں تھیں
امتحان تھے
جو ھم نے برداشت کیے
کہ کبھی تو سحر ھوگی
کبھی تو ھماری زندگی میں سورج چمکے گا
دکھ کے بادل چھٹے گے
یہ گزرے دنوں کی بات ھے
آج بھی اندھیرے ھیں
مایوسی کے بادل چھائے ھیں
زندگی موت کی دھلیز پہ بیٹھی ھے
بھوک سے نڈھال میرے بچے
کتنی آس سے مجھے دیکھتے ھیں
میری ممتا تقاضہ کرتی ھے
تمام دنیا بھرکی خوشیاں
دنیا کی سب آسائیشیں
ان کو دے دوں
مگر میرے پاس ان کو دینے کے لیے
ایک نوالہ بھی نہیں
دنیا بننانے والے نے
ھماری قسمت نجانے کس سیاہ رات میں لکھی تھی
جس میں کہیں کوئ کرن نہیں
میری آرزوئیں میری خواھشیں کچھ بھی نہیں
مگر کوئ عالم
کوئ نجومی یہ بنا سکتا ھے
کہ ان معصوم بچوں کی ھاتھوں کی لکیروں میں
کتنے دن مشقت کے ھیں
ان کی قسمت میں ابھی کتنے فاقے ھیں
علم حاصل کرنے کی حسرت پالنے والوں کی
تقدیر میں علم کی روشنی ھے کہ نہیں
ممتا کا دن منانے والے
ممتا کو خراج پیش کرنے والو
مجھے ممتا کا کوئ انعام نہیں چاھیے
اگر خراج پیش کرنا ھے
ماؤں کی قربانیوں کا بدلہ چکانا ھے تو
بے بس ماؤں کے بچوں کو
کوئ ھنستا ھوا مستقبل دے دو
کچرے کے ڈھیرسے زرق ڈھونڈنے والے بچوں
کے ھاتھوں میں کتابیں دے دو
ان کو ان کی تقدیر دے دو
میرے خوابوں کی تعبیر دے دو
sadia saher 2009
Keine Kommentare:
Kommentar veröffentlichen