Sonntag, 7. April 2013

ایک گزارش ھے


یں پاکستان کی ایک عام سی شہری ھوں میری جناب عزت ماآب محترم صدر آصف علی زرداری سے نہایت مودبانہ گزارش ھے ھم ایک غریب قوم ھیں تین سو پینسٹھ دنوں میں سے تین سو دن ھمارے بنا بجلی کے گزرتے ھیں فاقے عام ھیں بنا علاج کے مر جانا کوئ بڑی بات نہیں مر مر کے ماں باپ اپنی اولاد کو تعلیم دلاتے ھیں مگر نوکری نہیں ملتی کسی بھی دفتر میں چلے جائیں بنا رشوت کوئ کام نہیں ھوتا ضروریاتِ زندگی حصول مشکل ھوتا جا رھا ھے مہنگائ دن بدن بڑھ رھی ھے امن و امان کی صورتحال خراب سے خراب تر ھوتی جا رھی ھے جاگیردار اور وڈیرے ھم لوگوں کو زر خرید غلام سمجھتے ھیں محنت کا مناسب معاوضہ نہیں ملتا زندگی کی کوئ ضمانت نہیں کب کیا ھو جائے کوئ کچھ نہیں کہہ سکتا زندگی مسلسل امتحان بن گئ ھے ھم برسوں انھیں حالات سے دوچار ھیں مگر ھم کئ دھائیوں سے خا موش ھیں کبھی کوئ آواز نہیں اٹھائ مگر اب مجبور ھورھے ھیں
ھمارے ملک کے دو ٹکرے ھو گئے ھم خاموش رھے چہرے بدلے رھے حکومتیں بدلتی رھیں مگر ھم لوگوں کے حالات نہیں بدلےبرسوں آمر حکمران رھے ھم ھر ظلم خاموشی سے سہتے رھے ھمارے ملک کے کونے کونے میں آگ بھڑکتی رھی لوگ مرتے رھے اپنے اور غیر ھمیں مارتے رھے کبھی ڈرون حملے ھوئے کبھی لوگ غائب ھوئے ملکی خزانہ بار بار لوٹا گیا عوام غریب سے غریب تر اور حکمران امیر سے امیر ترین ھوتے رھے ھم خاموش رھے اس امید سے کبھی تو حالات بدلیں گے حکمرانوں کو کبھی تو عوام کا خیال آئے گا ان لوگوں کا جن کے ووٹ سے وہ منتخب ھوئے ھیں اب آپ سے اتنی گزارش ھے ساری دنیا میں ھماری غربت کا مذاق اڑانا بند کریں ھم غریب ھیں مگر عزتِ نفس رکھتے ھیں حالات کا شکار ھیں مگر بھکاری نہیں ھمارا نام لے کر ھمارے زخم دیکھا کر دنیا بھر جا جا کر ھمارے نام سے بھیک لینا بند کر دیں ھمیں آپ کے خلوصِِِ نیت پہ شک نہیں

اگر آپ کو ھمارا اتنا خیال ھے تو حالات کے شکارلوگوں کے پاس جا کر اپنی محبت کا اظہار کریں ان کے زخموں پر مرھم رکھیں صرف ٹی وی پہ ھی خطاب نہ کریں بلکہ سال میں چند گھنٹے عوام کے ساتھ گزاریں انکےمسلے مسائل انسے سنیں غریب عوام کو اس میں کوئ دلچسپی نہیں آپ نے کتنے میلین ڈالر ھمارے نام سے بطور امداد کے اکٹھے کیے اگر عوام کا اتنا خیال ھے تو اپنے غیر ملکی اثاثے پاکستان میں منتقل کر دیں مرسڈیز کاروں کے بجائے کسانوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے امیروں کے قرضے معاف کرنے کے بجائے غریبوں کو آسان اقساط پہ قرضے دیئے جائیں غیر ملکی دوروں پہ اتنا ھی خرچ کریں جتنا ایک غریب ملک کے صدر کو کرنا چاھئے اپنے ساتھ ان لوگوں کو لے کر جائیں جو اسلامی احکامات کی پابندی کریں غیر ممالک میں اسلام کے پاکستانی عوام کا نمائندہ بن کر جائیں
آپ سے اتنا عرض کرنا ھے پاکستانی عوام میں بہت برداشت ھے بہت حوصلہ ھے وہ بھوکے مر جائیں گے پاکستان کے لیے سب کچھ برداشت کر لیں گے صرف ھم سب کے قوتِ بازو پہ اعتبار کریں اللہ تعالیٰ نے جن نعمتوں سے نوازا ھے ان سے فائدہ اٹھائیں ھمیں اپنے پاؤں پہ کھڑا ھونے کا موقعہ دیں جب تک ھم اپنے پاؤں پہ نہیں کھڑے ھوں گے پاکستان کیسے چلے گا ترقی کی نئ منزلیں کیسے طے کرے گ

Keine Kommentare:

Kommentar veröffentlichen