Sonntag, 7. April 2013

کس حال میں ھیں میرے اہل ِ وطن


آج موسم بہت خوبصورت تھا لانگ ڈرائیو کرتے ھوئے تا حد نظر پھیلا ھوا سبزہ بہت اچھا لگ رھا تھا ھر طرف پھول کھلے ھوئے تھے ایک سحر طاری تھا اتنے حسین موسم کا طبعیت پر اثر طاری تھا گھر آکر ٹی وی آن کیا سوات کا اور وھاں سے نقل مکانی کرنے والے لوگوں کا ایک پروگرام چل رھا تھا کس حال میں رہ رھے ھیں وہ دیکھ کر ایک نظم لکھی ھے

یہ ایک روشن سی صبح تھی
ھر سو بہار چھائ تھی
گلشن میں پھول مسکاتے تھے
بھنورے پریت کے گیت گاتے تھے
تتلی لہرا کرآ تی تھی
مہک فضا سے آتی تھی
کوئل خوشیوں کے نغمے سناتی تھی
میں نے کہا اے بادِ صبا
تو دور دیس سے آئ ھے
بول کیا سندیسہ لائ ھے
کچھ تو بتا کچھ حال سنا
کیسے ھیں میرے اہل ِ وطن
اس نے نجانے کیا سرگوشی کی
پھول سبھی مرجھانے لگے
تتلیاں سبھی خاموش ھوئیں
بھنورے گلشن ھی چھوڑ گئے
آوازیں سسکیوں کی آنے لگی
کوئل نوحے گانے لگی
کالی گھٹا چھانے لگی
بارود کی بو آنے لگی
سبزہ زار لہو رنگ ھو گیا
بادِ صبا نے مجھ سے کہا
کچھ اور بتا نہیں سکتی
اور حال سنا نہیں سکتی
سمجھنا ھے تو سمجھ جاؤ
اس حال میں ھیں تیرے اھل ِ وطن
اس حال میں ھیں تیرے اھل ِ وطن


sadia saher 2009

Keine Kommentare:

Kommentar veröffentlichen