Samstag, 2. Februar 2013


میں مسلمان ھوں
توحید کی قائل ھوں
مگر نجانے کیوں
یہ دل تو میرا ھے
پھر کیا یہ مسلمان نہیں
میرے دل میں ابھی بھی بت کدہ آباد ھے
ھزاروں بت سجے ھیں
اور میرا دل
دن رات طواف کرتا ھے
یہ میرا دل
یہ کافر دل

روز کا مسلہ


ھم روزانہ بہت کچھ سوچتے ھیں ۔ اپنے آپ سےبہت کچھ کرنے کا وعدہ کرتے ھیں ۔ مگر دن ویسے ھی گزر جاتا ھے پتا نہیں رات کو سونے سے پہلے دماغ اتنا ایکٹو کیسے ھو جاتا ھے ۔
جب ھم سونا چاھتے ھیں دماغ جاگ جاتا ھے
ھمیں کتنی نصیحتیں کرتا ھے ھم نے دن ایسے ھی فضول گزارا ۔ ھم کیا کیا کر سکتے تھے ھم نے کیا کیا نہیں کیا اور جب ھم جاگتے ھیں تو وہ سونے چلا جاتا ھے ۔
اور ھم دن کھانے پینے گپیں مارنے میں گزار دیتے ھیں اور جب سونے کے لیے لیٹتے ھیں ۔ تو دماغ کسی حاجی کا روپ دھار کر ناصح بابا بن کر پھر اپنا لیکچر شروع کر دیتا ھے دل تو کرتا ھے چماٹ دوں ایک زوردار سی  کہ بھائ جی صبح کہاں تھے جب میں فضول بیٹھ کر ٹی وی ریمورٹ سی کھیل رھی تھی اس وقت آپ کن خیالوں میں گم تھے تب یہ نصحتیں کرنی تھی
ہونہہ
اب بولنا رات کو