Freitag, 3. Juli 2015

ندامت کا ایک آنسو

نجانے کتنے عرصے کے بعد میں سامنے تھی 
اک اجنبیت ایک فاصلہ درمیاں تھا 
کیا بات کرنی ہے ۔ کیسے بات کرنی ہے 
ایک خاموشی ۔ ایک سناٹا 
تیز چلتی ہوئیں سانسیں
جیسے دو دوست عرصہ بعد آمنے سامنے آئے ہوں
وقت درمیان رک گیا ہو 
میں خاموش تھی ۔۔شاید غصہ تھا 
محبت تھی نہ ۔۔۔۔۔ پھر کیسے وہ سمجھ نہیں پایا 
میں کیا چاہتی ہوں ۔ میری کیا خواہش ہے 
میری کیا خوشی ہے ۔۔ وہ اتنا انجان کیسے تھا 
اتنا بے خبر کیسے ہو سکتا تھا 
مجھے لگا جیسے وہ انجان ہے میرے دل سے
میری خواہشوں سے
یا میں اس کی مرضی اس کی خواہش سے انجان تھی 
یا میں ہی نہیں سمجھ پائی تھی 
میں اتنی دیر اس سے دور رہی 
شاید میں غلط رھی 
میرا دعویٰ غلط تھا کہ 
مجھے اس سے محبت ہے 
میں اسے چاہتی ہوں 
میری آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا 
ایک ندامت کا آنسو 
اور میرا رب
جس سے میں کب سے بے خبر تھی 
بڑھ کر میرے پاس آیا 
اب مجھے قدم بڑھانا تھا ۔ اور سارے فاصلے مٹ گئے
وہ رب سے اس کے لیے تو ایک آنسو کافی ہوتا ہے 
اور ندامت کے ایک آنسو نے 
سارے فاصلے مٹا دیئے