Donnerstag, 6. August 2015

اشرف المخلوقات اور انسان

اس بلاگ کا نام ڈیلی ڈائری ہے سوچا تو یہی تھا روزانہ کچھ نہ کچھ لکھا کروں گی مگر عمل نہیں کر پائ 
روزانہ کچھ نہ کچھ لکھنا ۔ ایسا کام جو آپ کسی کو بتانے میں فخر کریں یا بہت خوشی محسوس کریں 
ہماری زندگی میں  وہی روزانہ عام روٹین کے کام ہوتے ہیں 
جیسے ایک عام چرند پرند کے 
میں سوچتی ہوں قیامت کے دن جب زندگی بھر کا حساب دینا ہوگا تو کیا ہوگا
ہم ایک دن کا حساب نہیں دے سکتے 
ایک ایک پل کا حساب ۔
کوئ مقصدِ حیات 
ہم اشرف المخوقات بنائے گئے 
ہماری زندگی کا مقصد یہی ہے ہم اشرف المخوقات بن کر رہیں 
آج ایک وڈیو دیکھی جس میں چند لڑکے گدھے تو تنگ کر رہے تھے 
دیکھ کر سمجھ نہیں پا رہی تھی اصل گدھا کہلانے کے قابل کون ہے 
ایک وڈیو میں دو لڑکے ایک کتے کو مار رہے تھے 
وہ دیکھ کر سمجھنا مشکل ہو رہا تھا اصل جانور کون ہے 
کیا انسانی صورت ہو جانے سے انسان کہلایا جا سکتا ہے 
جب کرم جانوروں جیسے ہوں 
سانس لینا کھانا پینا اور ایسے ھی زندگی گزار دینا 
سب سے خوبصورت چیز زندگی جینا ہے 
ایک انسان بن کر زندگی جینا 
سعدیہ سحر ۔ 2015۔8۔7

Freitag, 3. Juli 2015

ندامت کا ایک آنسو

نجانے کتنے عرصے کے بعد میں سامنے تھی 
اک اجنبیت ایک فاصلہ درمیاں تھا 
کیا بات کرنی ہے ۔ کیسے بات کرنی ہے 
ایک خاموشی ۔ ایک سناٹا 
تیز چلتی ہوئیں سانسیں
جیسے دو دوست عرصہ بعد آمنے سامنے آئے ہوں
وقت درمیان رک گیا ہو 
میں خاموش تھی ۔۔شاید غصہ تھا 
محبت تھی نہ ۔۔۔۔۔ پھر کیسے وہ سمجھ نہیں پایا 
میں کیا چاہتی ہوں ۔ میری کیا خواہش ہے 
میری کیا خوشی ہے ۔۔ وہ اتنا انجان کیسے تھا 
اتنا بے خبر کیسے ہو سکتا تھا 
مجھے لگا جیسے وہ انجان ہے میرے دل سے
میری خواہشوں سے
یا میں اس کی مرضی اس کی خواہش سے انجان تھی 
یا میں ہی نہیں سمجھ پائی تھی 
میں اتنی دیر اس سے دور رہی 
شاید میں غلط رھی 
میرا دعویٰ غلط تھا کہ 
مجھے اس سے محبت ہے 
میں اسے چاہتی ہوں 
میری آنکھ سے ایک آنسو ٹپکا 
ایک ندامت کا آنسو 
اور میرا رب
جس سے میں کب سے بے خبر تھی 
بڑھ کر میرے پاس آیا 
اب مجھے قدم بڑھانا تھا ۔ اور سارے فاصلے مٹ گئے
وہ رب سے اس کے لیے تو ایک آنسو کافی ہوتا ہے 
اور ندامت کے ایک آنسو نے 
سارے فاصلے مٹا دیئے