Sonntag, 7. April 2013
چاند میری زمین پھول میرا وطن
بچپن میں دنیا کتنی حسین لگتی ھے ۔۔ پھول جگنو تتلیاں من کو بھاتی ھیں ۔ ایسے لگتا ھے جیسے دنیا میں کوئ دکھ درد نہیں صرف خوشیاں ھی خوشیاں ھیں بارش میں بھیگنا سردی کی دھوپ گرمی کے بادل اور رات کو چاند کی چاندنی ۔۔ چاند میں رھنے والی بڑھیا کو روز ڈھونڈنا کبھی حیرت سے چاندنی کو دیکھنا۔ لگتا تھا چاند سے زیادہ حسین کچھ اور ھو ھی نہیں سکتا ۔ پھر جب 14 اگست یا 23 مارچ کو قومی نغمے بجتے تھے تو عجیب سا احساس جاگتاا تھا ۔ ایک نغمہ جو مجھے بہت ہی پیارا لگتا تھا "چاند میری زمین پھول میرا وطن" تو میں سوچا کرتی تھی اگر چاند زمین پر آجائے تو کیسا لگے گا پاکستان جیسا روشن پھولوں کی طرح مہکتا ھوا میری دنیا پاکستان تھا اور اس کے رکھوالے فوجی میرا آئیڈیل پھر جب بڑی ھوئی تو احساس ھوا دنیا ویسی نہیں جیسا میں سوچتی ھوں یہاں خوشیاں ھی نہیں دکھ اور پریشانیاں بھی ھیں غربت اور بیماریاں بھی ھیں محبت ھی نہیں نفرتیں بھی ھیں بے ایمانی دھوکہ دھی تعصب بھی ھے یورپ میں آکر یہاں کی ترقی دیکھی پھر پاکستان سے موازنہ کیا تو کبھی عوام پہ غصہ آتا ھے کبھی حکمرانوں پہ - پچھلے ھفتے کچھ امید ھوئی کہ عوام سوئے ہوئے نہیں جاگ رھے ھیں کاش انھیں اپنی طاقت کا احساس ھو کہ وہ قدم ملا کرایک قوم بن کر ساتھ چلیں تو حکمرانوں کی نیندیں حرام ہو جائیں اور حکمرانوں کو اس بات کا احساس ھو اللہ نے انھیں پھر ایک موقعہ دیا ھے کیا پتا یہ آخری موقعہ ھوآج کے دن دعا ھے میرے پاکستان کو اللہ ویسا بنا دے جیسا میں بچپن میں سوچتی تھی آج پاکستان ایسا ھے جیسا حقیقت میں چاند جہاں نہ صاف ھوا ھے نہ بجلی نہ ضرویات زندگی ۔ اللہ کرے پاکستان ویسا بن جائے جیسے میرے تصورمیں بچپن میں تھا دنیا کا سب سے حسین چاند کی طرح روشن اور پھولوں کی طرح مہکتا ھوا
Abonnieren
Kommentare zum Post (Atom)
Keine Kommentare:
Kommentar veröffentlichen