Sonntag, 7. April 2013

میں ایک عورت ایک ماں


نرس نے ایک ننھا سا وجود میری گود میں ڈالا میں حیرت سے اسے دیکھ رھی تھی وہ میرے وجود کا حصہ تھا میں اٹھارہ برس کی ھوئ تھی کل تک ایک بیٹی تھی ایک لاپروہ سست نکمی کام چور سوتی صورت جس کو ھر روز ایک نیا نام ملتا تھا اپنی ماں کی ایک نکمی بیٹی آج خود ایک بیٹی کی ماں بن گئ تھی میں نے اس ننھے سے وجود کو دیکھا وہ آنکھیں بند کیے دھیرے سے مسکرایا میرے لب اپنے آپ مسکرا دئیے میں نے اس کا گالوں کو چھوا بانھوں میں بھر کر اپنے قریب کیا تو لگا ساری کائنات میری آغوش میں آگئ ھے آج مجھے ایک نیا روپ ملا تھا آج میں بیٹی بہو بیوی کے بعد ایک عظیم رتبہ ملا تھا آج میں ایک ماں تھی
میری امی کہتی تھیں میں مردوں سے شرط لگا کر سوتی ھوں میرے بھائ کا خیال تھا قیامت کے دن جب صور پھونکی جائے گی جو سب سے آخر میں انسان اٹھے گا وہ میں ھونگی اب یہ حال تھا عائشہ رات کو دو بجے دودھ پینے کے لیے اٹھتی تھی اور میں اس سے پہلے جاگی ھوتی تھی اپنی امی کو گھر اگر واش بیکن صاف کرنا پڑ جاتا تو ایسے لگتا جیسے پتا نہیں کتنی گندگی صاف کرنی پڑ رھی ھے ھزار بہانے بناتی اور اب اپنی بیٹی کی نیپی آرام سے صاف کرتی تھی
مجھے اپنے ناخن بہت عزیز تھے کوئ ایسا کام نہیں کرتی تھی جس سے میرے ناخن خراب ھوں اب میں نے خاموشی سے کاٹ دئے تھے نیپی بدلتے ھوئے کہیں اسے لگ نہ جائیں میری نیند اب کہیں کھو گئ تھی وہ سوتی تو جلدی جلدی گھر کے کام کرتی وہ جاگتی تو بس وہ ھوتی اس کی ایک ایک بات مجھے یاد ھے اس کا ھنسنا اس کا رونا ریڑھنا چلنا بولنا پہلی بار ماں کہنا عائشہ کے بعد علی عمر اور پھر فاطمہ اس میں اتنی مصروف ھو گئ کہ میری ذات کہیں کھو گئ
شاپنگ کرنے جاتی جوتے کپڑے پسند کرتی بچوں کو کوئ چیز پسند آجاتی اپنی پسند کی چیز خاموشی سے رکھ دیتی بچوں کی خواہش پورا ھونے پہ جو مسکرائٹ ان کے چہرے پہ آتی اسے دیکھ کر خوش ھو جاتی ان کی خوشی دیکھ کر اپنی تکلیف بھول جاتی اور ان کی تکلیف میں اپنا آرام بھول جاتی ان کی خوشیاں ان کی خوائشیں ان کے خواب ان کی تعلیم ان کا مستقبل زندگی ان کے ساتھ بھاگتے بھاگتے بھاگ رھی تھی اس کا شاید مجھے بھی احساس نہیں ھوا تھا احساس تب ھوا جب عائشہ کا رشتہ آیا کیا وقت اتنا گزر گیا ھے میں نے حیرت سے عائشہ کو دیکھا رشتہ اچھا تھا میرے بھائ کا بیٹا تھا اور عائشہ کی پسند بھی اس کی شادی کے بعد علی کو امریکن یونیورسٹی میں ایڈمیشن مل گیا وہ گیا کچھ عرصے بعد فاطمہ کی شادی ھو گئ عمر کی تعلیم مکلمل ھوئ اس نے پاکستان میں ھی جاب کو ترجیح دی اگر وہ بھی علی کی طرح پاکستان جیسے غریب ملک کو چھوڑ کر جانا چاھتا توھم کیا کر لیتے
اس کی شادی اس کے دوست کی بہن سے ھوئ میری مصروفیات اب صرف بچوں کے فون کا انتظار تھا کب علی فون کرے گا کب عائشہ کا فون آئے گا اکثر میں ھی فون کرتی تھی فاطمہ اسی شہر میں تھی وہ مہینے کے بعد ملنے آتی تھی اس کے سسرال والوں کو اس کا بھاگ بھاگ کر میکے آنا پسند نہیں تھا میں نے اسے منع کر دیے تھے فون کر لیا کرو بد مزگی سے کیا فائدہ بہت بار سوچا اس کے شوہر سے پوچھوں کیا شادی کے بعد بیٹی کا رشتہ اپنے گھر والوں سے ختم ھو جاتا ھے
جو ماں پیدا کرتی ھے پالتی ھے اسے انسان بناتی ھے زندگی گزارنے کا ڈھنگ سکھاتی ھے جنت ماں کے قدموں تلے ھوتی ھے چاھے بیٹا ھو یا بیٹی خدمت دونوں پہ فرض ھے شادی کے بعد بیٹی کی جنت ساس کے قدموں میں نہیں آجاتی ساس کی خدمت بہو پہ فرض ھوتی ھے بیٹی کی ماں بھی تو ساس ھوتی ھے تو کیا داماد اور اس کے گھر والوں پہ اس کا احترام فرض نہیں ھوتا کیا بیٹے کی ماں کا رتبہ بلند ھوتا ھے کیا بیٹی کی ماں بننے سے عورت کی عزت کم ھو جاتی ھے مگر بہت سی باتوں کے ساتھ یہ سب باتیں بھی میرے دل کے قبرستان میں دفن ھو گئیں تھیں
آج عمر نے مجھے کہا یہ علاقہ پرانا ھے یہاں اچھے اسکول نہیں اگر اچھے اسکولوں میں بچوں کو داخل کروائے تو بچوں کا آدھا دن آنے جانے میں ضائع ھو جائے گا اس لیے وہ چاھتا ھے کسی اچھے علاقے میں‌گھر لے لے میں نے اسے کہا وہ جہاں چاھے جا سکتا ھے مگر اس گھر کو چھوڑ کر میں کہاں جاؤں گی یہاں کی ایک ایک اینٹ میں میری یادیں ھیں میری جوانی میری زندگی میرے بچوں کا بچپن ایک ایک لمحہ آنکھیں بند کروں تو ماضی میرے سامنے آجاتا ھے ھم یہیں رھیں گے عمر اپنے نئے گھر میں چلا گیا آج میں بہت عرصے کے بعد آئینہ دیکھا میرے چہرے پہ ابھرنے والی سلوٹوں میں مجھے کئ روپ نظر آئے کئ نام نظر آئے بیٹی بہن بیوی بہو ماں خالہ چاچی تائی ممانی دیورانی جیٹھانی ایک ساس اور ان سب میں کہیں چھپی ھوئ ایک عورت جو اپنے فرض نبھاتے ھوئے کبھی میرے سامنے نہیں آئ تھی میں خود کیا تھی میری ذات کیا تھی میری خواہشیں میرے سپنے میری آزوئیں
ان سب رشتوں کے علاوہ میں کیا تھی میں ایک عورت تھی جو کمزور ھوتے ھوئے ایک نئے وجود کو تخلیق کرتی ھے اپنی خواھشوں کو مارتی ھے اپنے وجود کو بھول جاتی ھے کھڑکی سے برستی ھوئ بارش میں میں نے اپنے خالی گھر کو دیکھا یہ تو قانونِ قدرت ھے انسان دنیا میں اکیلا آیا ھے اس نے اکیلے ھی جانا ھے پرندے جب پرواز سیکھ لیتے ھیں تو کھلا آسمان ان کے سامنے ھوتا ھے انھیں تو اڑنا ھوتا ھے اپنے گھروندے بنانے ھوتے ھیں اپنے آشیانے کی آرزو سب کے دل میں ھوتی ھے میں نے کوئ انوکھا کام نہیں کیا تھا میں نے وھی کیا جو حوا سے لے کر اب تک ھر عورت کرتی آرھی ھے دنیا کی کروڑ ہا عورتوں کی طرح میں بھی ایک عورت ھوں ایک ماں

Keine Kommentare:

Kommentar veröffentlichen