یہ شعر میں نے مشرف کے دور میں لکھے تھے حکومت بدل گئ مگر ایک چیز جو ابھی بھی پارلیمنٹ نظر آتی ھے وہ ھے لوٹے ۔۔۔۔حکومت کوئ بھی ھو آمریت یا جمہوریت لوٹے اپنی جگہ بنا لیتے ھیں
لیڈر جِسے سمجھے وہ لوٹا نکلا
کھراجِسے سمجھے وہ کھوٹا نکلا
منزلوں پہ کیا لے جاتا بہک گیا خود ہی
وہ تو انسان بھی چھوٹا نکلا
sadia saher 2008
Keine Kommentare:
Kommentar veröffentlichen