Sonntag, 7. April 2013

پاکستان بہت یاد آیا


صبح آنکھ کھولی ذہن میں جو پہلی بات آئ چودہ اگست ساتھ ھی پوری آنکھیں کھول گئیں لیٹ کر سوچتی رھی آج کیا کرنا ھے کھڑکی کھولی باہر خاموشی تھی کہیں کوئ سبز پرچم لہراتا ھوا نظر نہیں آرھا تھا تی وی آن کیا ملی نغمے لگے ھوئے تھے ایک دم پاکستان کے لیے دل تڑپا گاڑی لے کر باہر نکل گئ بھاگتی ھوئ گاڑیاں تیز تیز چلتے ھوئے لوگوں کے ھوتے ھوئے بھی عجیب سی ویرانی لگ رھی تھی جیسے مردوں کے شہر میں گھوم رھی ھوں دل کیا ریڈ سگنل سے فل سیپڈ سے ہارن بجاتی ھوئ گزروں پاکستان کی آزادی کو یورپ میں بیٹھ کر محسوس کروں مگر قانون اور جرمانے کا سوچ کر مقررہ سیپڈ سے گاڑی چلاتی رھی چاکلیٹ لی خالی پیکینگ دل چاہا چلتے ایسے ھی اچھال کر پھینک دوں پاکستان میں ھم اکثر کوڑے کے ڈھیر دیکھ کر حکومت کے بارے میں بے لاگ تبصرے کرتے ھوئے پاکستان کے لیے اپنی محبت اور فکر کا اظہار کرتے ھیں پھر اسی کچرے کے ڈھیر پہ گند پھینک کر اپنے پاکستانی ھونے کا ثبوت دیتے ھیں
آج ھر موڑ سے گزرتے ھوئے پاکستان یاد آرھا تھا سڑک کی دونوں جانب گلاب کے پودے لگے ھوئے تھے مگر خوشبو نہیں تھی پاکستان میں ایک گلاب کاپودا ھو تو اس کی خوشبو سے ساری گلی مہکتی ھے یہاں پھول ھیں خوشبو نہیں پاکستان میں ھر جذبہ خالص ھوتا ھے
پاکستانی لوگ کھاتے ھیں تو ڈٹ کر کھاتے ھیں سوتے ھیں تو مست ھو کر سوتے ھیں محبت میں لوگ جان لٹانے کےلیے تیار ھو جاتے ھیں محبت بچھڑ جائے تو دنیا کو چھوڑنے کے لیے تیار ھو جاتے ھیں یہاں کی طرح نہیں محبت کھیل ھوتی ھے
گورے گورے لوگ نیلی آنکھیں ان سب کو دیکھ کر کسی ربورٹ کا احساس ھورھا تھا مجھے اپنے پاکستانی لوگ یاد آرھے تھے گرمی اور حالات سے مرجھائے ھوئے چہرے بے بس آنکھیں اداس آنکھیں کچھ کہتی ھوئ خاموش آنکھیں ھر آنکھ میں ایک نئ کہانی ھوتی ھے وہ گندہ مندہ سا ملک میرا ھے بھوک اور دھشت گردی سے مرتے ھوئے لوگ میرے ھیں آج پاکستان بہت یاد آتا رھا آج مجھے کششِ ثقل پہ یقین آیا ہاں زمین میں کشش ھوتی ھے جو سات سمندر پار سے بھی اپنی طرف کھینچتی ھے انسان آسمان کی اونچائ کو بھی چھونے لگے وہ وہاں اتنی دیر ٹھہر نہیں سکتا زمین کی طرف بے اختیار کھینچتا ھے میرے وطن کی زمین میں بہت کشش ھے آج اس بات پہ بھی یقین آگیا محبت اندھی ھوتی ھے یورپ کی خوبصورتی کے ھوتے ھوئے بھی دل پاکستان کے لیے ڈھرکتا ھے
محبت دولت نہیں دیکھتی یہ دلوں کےرشتے ھوتے ھیں اور دلوں کے رشتے کبھی ٹوٹتے نہیں

Keine Kommentare:

Kommentar veröffentlichen