میں بارش کا ایک قطرہ
ایک بے حثیت و بے نشان
اور قطروں سے ملا
اپنے سفر کا آغازکیا
پتھروں سے ٹکراتے ھوئے
چھوٹے بڑے راستوں سے گزرتے ھوئے
سردی گرمی سہتے ھوئے
اپنے سفر کو جاری رکھا
میں نے ایک ندی کا روپ دھارا
کبھی صحرا کبھی چٹانوں سے ٹکراتے ھوئے
کئ ندیاں مجھ سے ملتی رھیں
میں دریا بنا
بنجر زمینوں کو سیراب کرتے ھوئے
پیاسوں کی پیاس بھجاتے ھوئے
میلوں کا سفر کرتے ھوئے
اپنے راستے بناتا ھوا
میرے عزم کو کوئ روک نہیں سکا
میں سمندر سے ملا
میرے اوپر کھلا آسمان ھے
میری تہہ میں خزانے بھرے ھیں
میں بارش کا ایک قطرہ
آج سمندر ھوں
میری لہروں میں ھزار قطروں کی جان ھے
دنیا کی زندگی چھپی ھے
----------------------- سعدیہ سحر
Keine Kommentare:
Kommentar veröffentlichen