Sonntag, 7. April 2013
کتنے ھیرے پتھر ھوئے
کتنے ھیرے پتھر ھوئے
دنیا میں کروڑوں انسان ھیں اور ھر انسان کی ایک الگ کہانی ھے مگر بہت سی کہانیاں ایک دوسرے سے بہت ملتی جلتی ھوتیں ھیں اس کہانی سےبھی پاکستان کے لوگوںکی بہت سی کہانیاں ملتی ھونگی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!!!!
سبحان اپنے نام کی طرح تعریف کے قابل تھا اپنے ھوں یا غیر سب اس کی تعریف کرتے تھے .اسکول میں نمبر ون تھا کالج اور یونیورسٹی میں نصابی اور غیر نصابی پروگرام میں سبحان کا نام سب سے پہلے آتا تھا تقریر کرتا تو لوگ دم سادھے سنتے تھے ایسا شعلہ بیان تھا عالِم اسلام اور تحریک ِ پاکیستان پر بولتا ایسے ایسے دلائل دیتا کہ ایمان تازہ ھو جاتا لوگ بے اختیار رو دیتے …یونیورسٹی سے فارغ ھوا تو لوگوں نے کہا پاکستان میں کوئ مستقبل نہیں ترقی کے چانس بہت کم ھیں مگر پاکستان اور اسلام کی محبت اس کے خون میں ڈور رھی تھی ا س نے پاکستان میں رھنے کا فیصلہ کیا وہ گورنمنٹ جاب کے ساتھ ساتھ کالم لکھتا تھا جو بھی لکھتا تھا بے ڈھرک ھو کر لکھتا تھا احمد صاحب کبھی کبھی اسے ٹوکتے تھے مگر وہ کہتا تھا
ابو دنیا میں مسلمانوں پہ ظلم ھو یا عوام کے ساتھ کوئ زیادتی ھو میں کیسے آنکھیں بند کر سکتا ھوں لوگ بھوکوں مر رھے ھوں میں کیسے اپنی دنیا میں مست رہ سکتا ھوں میں ظالم کا ھاتھ نہیں روک سکتا مگر کمزور لوگوں کی زبان تو بن سکتا ھوں جو دیکھتا ھوں جو محسوس کرتا ھوں وھی لکھتا ھوں اپنے قلم اور اپنے ضمیر کا سودا نہیں کرسکتا
زبیدہ بیگم سبحان کے لیے رشتہ دیکھ رھی تھی انھیں اپنی دوست کی بیٹی سلمیٰ پسند تھی جیسی وہ بہو چاھتی تھی سلمیٰ میں وہ سب خوبیاں تھیں احمد صاحب سے مشورہ کیا تو انھوں نے کہا سبحان سےاس کی پسند پوچھ لو .
سبحان سلمیٰ سے تم ملے ھوئے ھو کیسی لگتی ھے تمیں
سبحان نے کھانا کھاتے ھوئے حیرت سے انھیں دیکھا
جی امی ملا ھوا ھوں اچھی ھے بہت سلجھی ھوئ
ھوں
ھم اس کی بات کرنے کا سوچ رھے ھیں
اگر تمہاری کوئ پسند ھے تو بتا دو
نہیں امی یہ کام آپ پہ چھوڑا ھے جو آپ مناسب سمجھیں
سبحان سے بات کرنے کے بعد سلمیٰ کے گھر رشتے کی بات کی انکار کی گنجایش نہیں تھی دونوں خاندان ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے عید کے بعد شادی کی تاریخ طے ھو گئ دونوں گھروں میں شادی کی تیاریاں شروع ھو گئ
11 ستمبر کے واقعے کے بعد پوری دنیا کے حالات تیزی سے بدلے ھزاروں لوگ امریکہ سے واپس آئے پاکستان کی پالیسی چینج ھوئ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا اعلان ھوا ..ایسے میں سبحان کا قلم کیسے چپ رہ سکتے تھا اس کے مصروفیات بڑھ گئیں
سبحان بیٹے اپنی مصروفیات اب کچھ کم کرو شادی سر پہ آگئ ھے مہمان آنے شروع ھو گئے ھیں
جی ابو کچھ کام ھیں ان سے فارغ ھو جاؤں
صبح سے سبحان گھر تھا آج کی مہندی رسم تھی زبیدہ بیگم اور احمد صاحب کے چہرے خوشی سے دمک رھے تھے گھر مہمانوں سے بھرا ھوا تھا شادی کے گانے گائے جا رھے تھے
شادی کی صبح نوکر نے بتایا کچھ لوگ آئے ھیں سبحان کا پوچھ رھے ھیں پھر پتا چلا وہ ان لوگوں کے ساتھ چلا گیا ھے
کون لوگ تھے آپ نے جانے کیوں دیا
بیگم وہ کوئ بچہ نہیں ھے ابھی آجائے گا
کوئ ضروری کام ھوگا ورنہ وہ ایسے ھی کیسی کے ساتھ نہیں جاتا
صبح سے دوپہر اور دوپہر سےشام ھوگئ
سبحان کے سب دوستوں کے گھر فون کیا سب نے بے خبری کا اظہار کیا سب رشتے دار پریشان تھے سمجھ نہیں آرھی تھی کیا کریں سبحان کی عادت تھی وہ کہیں بھی جاتا تھا تو فون ضرور کرتا تھا اگر زیادہ کام ھوتا تھا تو فون کر کے بتا دیتا تھا کے لیٹ آئے گا آج تو شادی کا دن تھا اتنا لاپرواہ تو وہ کبھی بھی نہیں تھا برات جانے کا وقت ھو رھا تھا سلمیٰ کے گھر فون کر دیا سلمیٰ کے رشتےدار ھزار سوال پوچھ رھے تھے لوگ طرح طرح کی باتیں بنا رھے تھے
کیا سبحان شادی سے خوش نہیں تھا
کیا وہ کیسی اور کو پسند کرتا تھا
شادی کے دن گھر کیوں چھوڑ گیا
احمد صاحب اور زبیدہ بیگم پہلے ھی پریشان تھے لوگوں کی باتیں انھیں اور پریشان کر رھی تھیں سب ددست واقفکار بھاگ دوڑ کر رھے تھے سبحان کی تصریر لے کر ھسپتال بھی گئے دل پہ پتھر رکھ کر مردہ خانے بھی گئے لاوارث لاشیں بھی دیکھیںپولیس میں بھی رپورٹ
کی
وہ رات جیسے سب نے جاگ کر گزاری یہ وہی جانتے ھیں سب فون کے گرد بیٹھے تھے . فون کی ھر بیل پہ ایسے جیسے سب میں جان پڑ جاتی تھی امید کے دیئے جلنے لگتے تھے شاید سبحان کا فون ھو اس کے بارے میں کوئ خبر ھو بار بار سملیٰ کے گھر سے فون آرھے تھے وہ سبحان کا پوچھ رھے تھے سلمیٰ کے ھاتھوں میں مہندی مہک رھی تھی وہ دلہن بنی سب رشتےداروں کے درمیان بیٹھی برات کے آنے کا انتظار کر رھی تھی لوگ برات کے نا آنے کے بارے میں بار بار پوچھ رھے تھے ان کی باتیں اسے اور پریشان کر رھی تھیں شادی ھال خالی کر کے دینا تھا آدھی رات کو وہ سب گھر واپس آئے سلمیٰ نے سادے کپڑے پہن لیے اس کا دل کانپ رھا تھا سمجھ نہیں پا رھی تھی وہ کیا کرے پھر رشتےداروں کی سوال کرتی نظریں …دل چاہ رھا تھا دنیا کے کسی ایسے کونے میں چھپ جائے جہاں اسے کوئ نا دیکھ سکے وہ خیالوں ھی خیالوں میں سبحان سے شکوے کر رھی تھی ساری رات آنکھوں میں کٹی کان کسی خبر کے منتظر رھے ولیمے کا دن گزرا لگ رھا تھا سبحان کو زمین نگل گئ یا ھوا لے اڑی سب دوست واقفکار انجان تھے سب رشتے دار اپنےاپنے گھروں کو چلے گئے وقت کیسا بھی گزرتا جاتا ھے دن پہ دن گزرتے جا رھے تھے عید الضحیٰ آئ اور گزر گئ لگتا تھا عید پہ بکرے قربان نہیں ھوئے جذبے ارمان امیدیں بھی قربان ھو گئ ھیں . نیا سال آیا تو سب کے لبوں پہ ایک ھی دعا تھی سبحان واپس آجائے سلمیٰ نا کنواریوں میں تھی نا بیواؤں میں .. احمد صاحب اور زبیدہ کا برا حال تھا جس دن ان کے کے بیٹے کا گھر بسنا تھا اسی دن سے ان کے گھر میں اداسیوں نے بسیرا کر لیا تھا ھر سورج اس امید سے ابھرتا کے شاید آج سبحآں آجائے رات سوتے جاگتے گزرتی ایسے لگتا جیسے سبحان بلا رھا ھے آواز دے رھا ھےوہ ماں تھیں تڑپ کے اٹھ بیٹھتی مرے ھوئے انسان کو انسان چار دن روتا ھے پھر کوئ کتنا بھی عزیز ھو دھیرے دھیرے جینا سیکھ لیتا ھے مگر سبحان اس کا تو معاملہ ھی اور تھا دل مردہ سمجھنے کو تیار نہیں تھا اگر زندہ ھے تو کہاں ھے زندگی اور موت کے درمیان لٹکنا کیا ھوتا ھے کتنا اذیت ناک ھوتا ھے یہ وہھی جان سکتا ھے جس پہ بیت رھی ھو پولیس کہتی تھی تلاش جاری ھے اخبار میں تصویر دی ھزار بار اشتہار دیا حکومت کے سامنے اجتجاج کیا مگر کوئ فائدہ نہیں ھوا دن مہینوں میں بدلے مہینے سالوں میں ….
سلمیٰ کے گھر والے اس کی شادی کرنا چاھتے تھے مگر اس کا نکاح مہندی کی رات ھو چکا تھا وہ سبحان کا انتظار کر رھی تھی لوگوں کے سوالوں سے بچنے کے لیے اس نے خاموشی سے ایک اسکول مین جاب کر لی زندگی جیسے رک سی گئ تھی ایک ھی موسم رک گیا تھا انتظار کا موسم …..ھر پل ھر لمھہ انتظار جب عید آتی یا کسی کی شادی ھوتی سب زخم نئے سرے سے تازہ ھو جاتے یہ تو زخم بھی ایسا تھا کوئ بھرنا بھی چاھتا تو نہیں بھر سکتے تھا خوشیوں کے پل ھنستے مسکراتے کیسے گزر جاتے ھیں پتا بھی نہیں چلتا مگر دکھ وہ تو روح میں بسیرا کر لیتا ھے مرتے دم تک انسان کے ساتھ رھتا ھے احمد صاحب اور زبیدہ بیگم کو اپنے بیٹے کے انتظار نے زندہ رکھا ھوا تھا وقت سرکتا جا رھا تھا پھر گمشدہ افراد کے کیس کھولنے لگے تحقیقات شروع ھوئ..بہت سے لوگون خبر ملی پھر ایک دن کچھ نامعلوم لوگ جیپ پہ آئے اور دروازے کے سامنے سبحان کو خاموشی سے چھوڑ گئے جس حالت میں سبحان واپس آیا تھا اسے دیکھ کر گھر والے جیتے جی مر گئے وہ ایک زندہ لاش تھا جو کسی بھی موضوع پہ گھنٹوں بول سکتا تھا اب اٹک اٹک کے چند الفاظ بولتا تھا ماضی کو بھول چکا تھا اسے کس بات کی سزا ملی تھی محب الوطن پاکستانی ھونے کی سزا یا سچا مسلمان ھونے کی سزا یا سچ لکھنے کی سزا ..اس کی زندگی کیا زندگی تھی سبحان تو واپس آگیا تھا مگر بہت سے لوگوں کا کچھ پتا نہیں مگر ملک میں بھت سی بے نام قبروں کا اضافہ ھو چکا تھا ان بے نام قبروں میں کن کے جگر کے ٹکڑے تھے کتنے انمول ھیرے دفن تھے کسے خبر …یہ بے نام قبریں کشمیر فلسطین آزربائجان بوسنیا میں پھیلی ھوئ ھیں ان میں ایسے ھیرے دفن ھیں جن کی قدر ان کے اپنے ملک والے نہ پہچان سکے مگر دشمن کی آنکھ پہچان گئ کے یہی ھی وہ لوگ جن میں سچ کہنے کی طاقت ھے دشمن سے ٹکرانے کا حوصلہ ھے ان کو خاموشی سے ختم کر دیا گیا جن قوموں کے لوگ ضمیر فروش ھوتے ھیں ان کے ھیرے بھی پتھر بنا دیئے جاتے ھیں ..بے ضمیر قرموں کا کوئ ھنستا ھوا ماضی نہیں ھوتا حال میں دردبھری آہیں اور فریادیں گھونجتی ھیں اور مستقبل ھوتا ھے کسی بے نام قبر کی طرح خاموش اور اندھیروں میں ڈوبا ھوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!!!!
Abonnieren
Kommentare zum Post (Atom)
Keine Kommentare:
Kommentar veröffentlichen