Samstag, 2. Februar 2013

روز کا مسلہ


ھم روزانہ بہت کچھ سوچتے ھیں ۔ اپنے آپ سےبہت کچھ کرنے کا وعدہ کرتے ھیں ۔ مگر دن ویسے ھی گزر جاتا ھے پتا نہیں رات کو سونے سے پہلے دماغ اتنا ایکٹو کیسے ھو جاتا ھے ۔
جب ھم سونا چاھتے ھیں دماغ جاگ جاتا ھے
ھمیں کتنی نصیحتیں کرتا ھے ھم نے دن ایسے ھی فضول گزارا ۔ ھم کیا کیا کر سکتے تھے ھم نے کیا کیا نہیں کیا اور جب ھم جاگتے ھیں تو وہ سونے چلا جاتا ھے ۔
اور ھم دن کھانے پینے گپیں مارنے میں گزار دیتے ھیں اور جب سونے کے لیے لیٹتے ھیں ۔ تو دماغ کسی حاجی کا روپ دھار کر ناصح بابا بن کر پھر اپنا لیکچر شروع کر دیتا ھے دل تو کرتا ھے چماٹ دوں ایک زوردار سی  کہ بھائ جی صبح کہاں تھے جب میں فضول بیٹھ کر ٹی وی ریمورٹ سی کھیل رھی تھی اس وقت آپ کن خیالوں میں گم تھے تب یہ نصحتیں کرنی تھی
ہونہہ
اب بولنا رات کو

Keine Kommentare:

Kommentar veröffentlichen